خطبات نور — Page 309
309 پس تم عقائد کی طرف توجہ کرو۔دیکھو امام صاحب کے دل میں جماعت کی خیر خواہی اور بہتری کے ہزاروں ہزار خیالات بھرے ہیں۔ساٹھ یا ستر کے قریب کتب موجود ہیں مگر سامنے جو بات پیش کی ہے وہ صرف ایک مختصر اور پر معانی چھوٹی سی بات ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔حضرت امام علیہ السلام نے بھی اسی قرآنی اصول کو ہاتھ میں رکھ کر یہ مختصر سا فقرہ تمہارے سامنے رکھا ہے۔اگر اصل قوی ہاتھ میں آجاوے تو فروعات خود سنور جاتے ہیں اور انسان ہر قسم کی نادانی، جہالت، گناہ اور بدکاری سے مضائقہ کرنے لگ جاتا ہے۔ہر کام میں سوچے گا کہ آیا میں دین کو مقدم کر رہا ہوں یا دنیا کو۔حکام کے سامنے مقدمات میں بڑے بڑے گھبرا دینے والے مصائب ہیں، شادی میں، غم میں، رسم میں رواج میں خویش و اقارب میں، دوستی میں، دشمنی میں ، لین میں، دین میں غرض اپنے کل کاموں میں دیکھنا پڑے گا کہ آیا میں دنیا کو دین پر تو مقدم نہیں کر رہا؟ تو اس طرح سے ہر بدی دور ہو جاوے گی اور دین مقدم ہو جاوے گا جو سراسر رشد اور سرتاپا نور ہے۔دیکھو اگر کسی کے چہرے پر ذرا سانشان پھلبہری کا نمودار ہو جائے تو اس کے والدین خویش اقارب یا دوستوں کو کیسے کیسے فکر لگ جاتے ہیں۔علاج کے واسطے کہاں سے کہاں تک پہنچتے ہیں۔کتنا روپیہ خرچ کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔خرچ برداشت کرتے ہیں۔وقت صرف کرتے ہیں۔مشکل سے مشکل تکالیف برداشت کرتے ہیں۔مگر کیوں؟ صرف اس لئے کہ تا اس چند روزه دنیوی زندگی میں تکلیف نہ ہو۔لیکن اگر فکر نہیں اور بے فکری اور لاپرواہی ہے تو کس بات کی؟ صرف دین کی۔نہیں خرچ کرتے تو کس کے لئے؟ دین کے لئے۔مرتد ہو جاوے نماز نہ پڑھے خدا سے غافل نہ ہو منکر ہو اس کی پر واہ نہیں۔چند روزہ زندگی کے واسطے تو اتنی فکر ہے۔فکر نہیں تو کس کا؟ لازوال اور ابد الآباد زندگی کا۔پس یہ زمانہ بلحاظ اپنی پرفتن حالت کے اس امر کا متقاضی تھا کہ کوئی مرد خدا ایسا آتا جو دین کو مقدم کرنے کا عہد لیتا۔اس مرض کی یہ دوا تھی اور اس وقت کے مناسب حال یہی تعلیم۔میں نے ایک شخص کو نصیحت کی کہ تم قرآن شریف بھی پڑھا کرو آخر وہ بھی خدا کی ایک چٹھی ہے۔تو جواب میں بلا تامل یوں کہا کہ پھر کوئی نہایت اعلیٰ قسم کی عمدہ اور میری شان کے شایان حمائل عطا کر دیجئے۔جائے غور ہے کہ آخر اپنی دیگر ضروریات دنیوی کے واسطے بھی تو ہزاروں روپے خرچ کرتا تھا اگر ایک یا دو روپے خرچ نہیں کر سکتا تھا تو کس کے لئے ؟ دین کے لئے۔غرض دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ایک اصل ہے جو حضرت امام نے ہمارے ہاتھ میں دیا ہے۔کام میں کاج میں، سونے میں، جاگنے میں، کھانے میں، پینے میں لباس میں، پوشاک میں گھر میں باہر میں