خطبات نور — Page 168
168 یہی نہیں بلکہ ان کو سمجھا اور سکھلا بھی دے۔پھر اس پر بس نہ کیجیو بلکہ ایسی طاقت جذب اور کشش بھی اسے دیجیو جس سے لوگ اس تعلیم پر کاربند ہو کر مزکی اور مطہر بن جاویں۔تیرے نام کی اس سے عزت ہوتی ہے کیونکہ تو عزیز ہے اور تیری باتیں حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔اس دعا کی قبولیت کس طرح سے ہوئی وہ تم لوگ جانتے ہو۔اور یہ صرف اس دعا ہی کے ثمرات ہیں جس سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں۔دعا ایک بڑی عظیم الشان طاقت والی شے ہے۔علاوہ ابراہیم علیہ السلام کے جب دوسرے نبیوں کی کامیابیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کا باعث بھی صرف دعاہی کو پاتے ہیں۔وہ دعا ہی تھی جس نے حضرت آدم کو کرب و بلا سے نجات دی۔اور وہ دعا ہی تھی جس نے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کو پار لگایا۔قرآن شریف کے ابتداء میں بھی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ) اور انتہا بھی دعا ہی پر ہے یعنی اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ (الناس:۲)۔جب ہم نبی کریم علیہ السلام کی زندگی پر نظر کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے چلنے پھرنے اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے ، نماز کے ادا کرنے، سودا سلف لانے‘ بات چیت کرنے ، غرضیکہ ہر ایک کی ابتداء دعا ہی سے ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ مضطر کی تسکین کا باعث اور کمزور طبائع کی ڈھارس یہی دعا ہے۔جب انسان کسی غرض کی تکمیل کے لئے ظاہری سامان مہیا کرتا ہے تو اسے یہ علم ہرگز نہیں ہوتا کہ اس سے ضرور وہ غرض حاصل ہو جاوے گی۔کیونکہ سامان کے بہم پہنچ جانے کے بعد اور مخفی در مخفی ایسے اسباب اور واقعات کی ضرورت ہوتی ہے جن پر اس کا علم ہرگز محیط نہیں ہوتا تو اس وقت صرف دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی غرض مطلوبہ کے حاصل کرنے کے لئے امداد طلب کر سکتا ہے اور اسی سے وہ مخفی در مخفی اسباب میسر ہو جاتے ہیں جن سے اس غرض کی تکمیل ہوتی ہے۔بعض کمزور طبائع جو کہ دعا کی اس خوبی سے نا وقف ہیں ان کو چاہئے اور لازم ہے کہ اسے ایک مجرب نسخہ مان کر استعمال کریں۔کیونکہ یہ ہزارہا راستبازوں کا تجربہ کیا ہوا ہے۔طبابت میں بھی عمدہ اور اعلیٰ نسخہ وہی ہوتا ہے جو کہ بہت سے بیماروں پر مفید ثابت ہوا ہو۔اور اگر چہ ایک دو کو مضر بھی ہو لیکن فائدہ کی کثرت اس کے عمدہ ہونے پر کافی دلیل ہوتی ہے۔یہی حال دعا کا ہے۔ہر ایک کی طبیعت ایجاد نہیں کر سکتی۔اس لئے عام اور کمزور طبائع کے لئے مجربات کا استعمال داناؤں نے بھی تجویز کیا ہے۔اس لئے اس قسم کے لوگوں کو بھی پہلے فرضی طور پر اس کی خوبیوں کو مان کر اس پر عملد رآمد شروع کرنا چاہئے۔جس قدر بڑے بڑے علوم ریاضی، ہندسہ ، جغرافیہ علم الافلاک، صرف و نحو وغیرہ ہیں ان سب کی ابتداء