خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 703

خطبات نور — Page 167

ورد کمبر ۱۹۰۴ء 167 خطبہ عید الفطر الله اكبر - الله اكبر الله اكبر - الله اكبر - لا إِلَهَ إِلَّا الله والله اكبر - الله اكبر و لِلَّهِ الْحَمْدُ۔رَبَّنَا وَ ابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ إِيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (البقرہ:۳۰) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔یہ ایک دعا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جناب رب العزت اور رب العالمین اللہ جلشانہ کے حضور مانگی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس دنیا میں اسلام کے آنے اور اس کے ثمرات کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل نے حضرت ابراہیم کے ذریعہ ایک دعا کی تقریب پیدا کر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تو ہمارا رب اور مربی اور محسن ہے۔تیری عالمگیر ربوبیت سے جیسے جسم کے قومی کی پرورش ہوتی ہے ، عمدہ اور اعلیٰ اخلاق سے انسان مزین ہوتا ہے، ویسے ہی ہماری روح کی بھی پرورش فرما اور اعتقادات کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا۔اے اللہ ! اپنی ربوبیت کی شان سے ایک رسول ان میں بھیجیو جو کہ مِنْهُمْ" یعنی انہی میں سے ہو اور اس کا کام یہ ہو کہ وہ صرف تیری (اپنی نہیں) باتیں پڑھے اور پڑھائے اور صرف