خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 169 of 703

خطبات نور — Page 169

169 اول فرض پر ہے۔پھر اس پر ہی انسان ترقی کر کے بڑے بڑے عظیم الشان نتائج پر پہنچ جاتا ہے۔ایک پولیس مین کے کہنے پر فرضی طور پر ایک گھر کی تلاشی لی جاتی ہے۔اگر چہ صرف ظنی امر ہوتا ہے مگر بسا اوقات مال بھی برآمد ہو جاتا ہے۔پس مومن کو چاہئے کہ نبی کریم کی تعلیم سے اور سابقہ راستبازوں کے تجربہ کی بناء پر دعا کو ذریعہ بناوے اور اپنی کمزوری کی آگاہی کے لئے بھی دعا ہی کرے تو اسے معلوم ہو گا کہ دعا کیسی عجیب اور ضروری شے ہے۔دعا کے ساتھ خدا تعالیٰ نے صبر کی بھی تعلیم دی ہے کیونکہ بعض وقت مصلحت الہی سے جب دعا کی قبولیت میں دیر ہوتی ہے تو انسان اللہ تعالیٰ پر سوء ظن کرنے لگتا ہے اور نفس دعا کی نسبت اسے شکوک اور شبہات پیدا ہو جاتے ہیں اس لئے استقلال اور جناب الہی پر حسن ظن رکھے۔جو آیت میں نے پڑھی ہے وہ ثمرہ دعا ابراہیم ہے اور اس میں ظاہر فرمایا ہے کہ ایک رسول ہونا چاہئے جو کہ تیری آیات پڑھے اور پڑھائے اور لوگوں کو مزکی اور مطہر کرے۔یہ تین باتیں ہیں جو کہ اس دعا کے ذریعہ چاہی گئی ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اول دو باتیں تعلیم اور تعلم تو اب تک موجود ہیں۔بچہ بچہ اور عورتیں اور مرد اور حفاظ قرآن کی تلاوت میں مصروف ہیں اور عالموں اور واعظوں کے ذریعہ سے لوگوں کو قرآن شریف کے اسرار و حقائق کا بھی کچھ نہ کچھ علم ہوتا ہے۔اور دونوں سلسلوں نے اب تک جاری رہ کر اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نے قبولیت کا شرف دو تہائی حصہ حاصل کر لیا ہے۔لیکن کیسے افسوس کی بات ہو گی اگر ہم یہ مان لیں کہ اس دعا کی جزو اعظم، دوسروں کو مزکی و مطہر بنانے کا کوئی سلسلہ نبی کریم کی طرف سے موجود نہ ہو۔رسول کی بعثت کی علت غائی اور دعا کا مغز اور لب لباب تو یہی تھا۔اور پھر اگر یہی نہیں رہا تو دعا کی قبولیت کیا ہوئی۔خدا تعالی کو چونکہ علم تھا کہ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو کہ اس دعا کی قبولیت کی نفی کریں گے اس لئے اس نے اپنے پاک کلام میں وعدہ فرمایا۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ۔(الحجر) اور دوسری جگہ فر: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ (النور (۵۲) یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین لوگوں کو مزکی اور مطہر بناتے رہیں گے۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ (النور (۵۲) جس دین کو اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اس میں طاقت پیدا کر دیں گے اور ایسی مقدرت عطا کریں گے جس سے نفوس کا تزکیہ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا (النور :۵۲) ان کو مشکلات بھی پیش آویں گے لیکن اللہ تعالیٰ ہو۔ان کی پناہ ہو گا۔