خطبات نور — Page 116
116 ہے مگر یہ اس کی مخالفت کرتا اور اس سے انکار کرتا ہے۔برہموؤں نے اسی قسم کا دعویٰ کیا ہے جو وہ رسالت و نبوت کے منکر ہیں۔یہ بغاوت ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ مطاع ہو اور وہ گویا ارادہ الہی کا دشمن اور باغی ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحه) کی دعا کرو۔علوم پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو۔رنج میں، راحت میں اور عسر یسر میں قدم آگے بڑھاؤ۔خطبہ ثانی إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْنَاى ذِي الْقُرْنِي وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِو الْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل:9) اس آیت میں بڑے حکم ہیں۔پہلا حکم عدل کا ہے۔ایک عدل و انصاف بندوں کے ساتھ ہے۔دیکھو ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ہم سے دعا فریب کرے یا ہمارا نو کر ہو تو وہ ہماری خلاف ورزی کرے۔پس ہم کو بھی لازم ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ خادمانہ تعلق رکھتے ہیں تو اپنے مخدوم و محسن کی خلاف ورزی نہ کریں۔اپنے فرائض منصبی کو ادا کریں اور کسی سے کسی قسم کا مکرو فریب اور دغا نہ کریں۔یہی عدل ہے۔ہرچہ بر خود نه پسندی بر دیگران مپسند۔یہ عدل باہم مخلوق کے ساتھ ہے۔اور پھر جیسے ہم اپنے محسنوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو محسنوں کا محسن اور مربوں کا مربی اور رب العالمین ہے اس کے ساتھ معاملہ کرنے میں عدل کو ملحوظ رکھیں۔اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اس کا یذ اور مقابل تجویز نہ کریں۔اس کے بعد دوسرا حکم احسان کا ہے۔مخلوق کے ساتھ یہ کہ نیکی کے بدلے نیکی کرتے ہیں اس سے بڑھ کر سلوک کریں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ احسان یہ ہے کہ عبادت کے وقت ہماری یہ حالت ہو کہ ہم گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہیں اور اگر اس مقام تک نہ پہنچے تو یقین ہو کہ وہ ہم کو دیکھتا ہے۔پھر تیسرا حکم ایتاء ذی القربیٰ کا ہے۔ذی القربی کے ساتھ تعلق اور سلوک انسان کا فطری کام ہے جیسے ماں باپ بھائی بہن کے لئے اپنے دل میں جوش پاتا ہے اسی طرح اللہ کی فرمانبرداری میں متوالا ہو۔کوئی غرض مد نظر نہ ہو۔گویا محبت ذاتی کے طور پر اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہو۔