خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 117 of 703

خطبات نور — Page 117

117 پھر چوتھا حکم یہ ہے کہ اللہ تعالی منع کرتا ہے ہر قسم کی بے حیائیوں، نافرمانیوں اور دوسرے کو دکھ دینے والی باتوں سے اور ان بغاوتوں سے جو اللہ جل شانہ یا حکام یا بزرگوں سے ہوں اور آخر میں یہ ہے يعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اللہ تعالی تمہیں وعظ کرتا ہے۔غرض اور مشاء الی یہ ہے کہ تم اس کو یاد رکھو۔دو قسم کے واعظ ہوتے ہیں اور دو ہی قسم کے سننے والے۔واعظ کی دو قسمیں تو یہ ہیں کہ کچھ پیسے مل جاویں اور یا مدح سرائی ہو کہ عمدہ بولنے والا ہے۔خدا کا شکر ہے کہ تمہارے وعظ میں یہ دونوں باتیں نہیں بلکہ وہ محض نصح کے لئے کہتا ہے جو کہتا ہے۔اور سننے والوں میں سے ایک قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جن کو اس وقت کچھ مزہ آتا ہے اور پھر یاد کچھ نہیں رہتا۔دوسرے بالکل کورے کارے ہوتے ہیں۔پس تم اس قسم کے سننے والے نہ بنو بلکہ وعظ کی اس غرض کو ملحوظ رکھو لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - الله تعالى ہم سب کو توفیق دے۔آمین الحکم جلدے نمبر ۲----- ۷ ار جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱ تا۱۳)