خطبات نور — Page 95
95 یاد رکھو کبھی کسی گناہ کو چھوٹا اور حقیر نہ سمجھو۔چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے انسان ایک خطر ناک اور گھیر لینے والے گناہ میں گرفتار ہو جاتا ہے۔تمہیں معلوم نہیں یہ پہاڑ چھوٹے چھوٹے ذرات سے بنے ہیں۔یہ عظیم الشان بڑ کا درخت ایک بہت ہی چھوٹے سے بیج سے بنا ہے۔بڑے بڑے اجسام ان ہی باریک ایٹمز و ذرات سے بنے ہیں جو نظر بھی نہیں آتے۔پھر گناہ کے بیج کو کیوں حقیر سمجھتے ہو ؟ یاد رکھو! چھوٹی چھوٹی بدیاں جمع ہو کر آخر پیس ڈالتی ہیں۔انسان جب چھوٹا سا گناہ کرتا ہے تو اس کے بعد اور گناہ کرتا ہے۔یہاں تک کہ خدا تعالی کی حد بندی کو توڑ کر نکل جاتا ہے جس کا نام کبیرہ ہوتا ہے اور پھر راستبازوں کے قتل کی جرات کر بیٹھتا ہے۔اسی طرح پر ادنی سی نیکی اگر کرو تو اس سے ایک نور معرفت پیدا ہوتا ہے۔نیکی اور بدی کی شناخت کا انحصار ہے قرآن شریف کے علم پر۔اور وہ منحصر ہے بچے تقویٰ اور سعی پر۔چنانچہ فرمایا وَاتَّقُوا اللَّهَ وَ يُعَلِّمُكُمُ الله (البقره: ۳۸۳)۔اور فرمایا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت:-)- جب اللہ تعالیٰ میں ہو کر انسان مجاہدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی راہیں اس پر کھول دیتا ہے۔پھر بچے علوم سے معرفت نیکی اور بدی کی پیدا ہوتی ہے اور خدا کی عظمت و جبروت کا علم ہوتا ہے اور اس سے کچی خشیت پیدا ہوتی ہے۔اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاضر (۲۹)۔یہ خشیت بدیوں سے محفوظ رہنے کا ایک باعث ہوتی ہے اور انسان کو متقی بناتی ہے اور تقویٰ سے محبت الہی میں ترقی ہوتی ہے۔پس خشیت سے گناہ سے بچے اور محبت سے نیکیوں میں ترقی کرے ، تب بیڑا پار ہوتا ہے اور مامور من اللہ کے ساتھ ہو کر اللہ تعالیٰ کے غضبوں سے جو زمین سے یا آسمان سے نکلتے ہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔یہ بات کہ دین کو ہم نے دنیا پر مقدم کیا ہے یا نہیں ہم کو واجب ہے کہ ہم اپنے تمام معاملات میں، دین کے ہوں یا دنیا کے متعلق ہوں یا مال کے متعلق ہر وقت سوچتے اور پر کھتے رہیں اور اپنا محاسبہ آخرت کے محاسبہ سے پہلے آپ کریں۔اور جب خدا کی راہ میں قدم اٹھایا جاتا ہے تو معرفت کا نور ملتا ہے۔پس کوشش کرو، استغفار کرو اور جس درخت کے ساتھ تم نے اپنا آپ پیوند کیا ہے اس کے رنگ میں رنگین ہو کر قدم اٹھاؤ۔اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ہم۔له (الحکم جلد نمبر ۲-۷۰۰ار جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۸ تا ۱۰) و الحکم جلد نمبر ۳--- ۲۴/ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۴۵) الحکم جلد ۶ نمبر ۴-۰-۳۱ / جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۶)