خطبات نور — Page 94
94 کے مخالفوں کی حالت پر بہت رحم آتا ہے کہ یہ ان سے بھی جلد بازی اور شتاب کاری میں آگے بڑھے ہوئے ہیں۔وہ نوح علیہ السلام کی تبلیغ اور دعوت کو سن کر اعتراض تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے ہیں فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّى حِيْنِ (المومنون (۲۶) چندے اور انتظار کر لو۔مفتری ہلاک ہو جاتا ہے۔اس کا جھوٹ خود اس کا فیصلہ کر دے گا۔مگر یہ شتاب کار نادان اتنا بھی نہیں کہہ سکتے۔العجب! ثم العجب!! غرض جب ان شریروں کی شرارت اور تکذیب حد سے گزر گئی تو چونکہ مامور من اللہ بھی انسان ہی ہوتا ہے، اعداء کی تکذیب اور نہ صرف تکذیب بلکہ مختلف قسم کی تکالیف خود اسے اور اس کے احباب کو دی جاتی ہیں تو وہ بے اختیار ہو کر لَوْ كَانَ الْوَبَاءُ المُتَبر کہہ اٹھتا ہے۔ایسی حالت میں حضرت نوح علیہ السلام نے بھی کہا رَبِّ انْصُرْنِي بِمَا كَذَّبُونِ (المومنون (۲۷) اے میرے موٹی ! میری مدد کر۔میری ایسی تکذیب کی گئی ہے جس کا تو عالم ہے۔جب معاملہ اس حد تک پہنچا تو خدا کی وحی یوں ہوتی ہے۔انِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا (المومنون:۲۸) ہماری وحی کے موافق ہماری نظر کے نیچے ایک کشتی تیار کرو اور اپنے ساتھ والوں کو بھی ساتھ لے لو تو ہم تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو بچالیں گے اور شریر مخالفوں کو غرق کر دیں گے۔چنانچہ حضرت نوح نے ایک کشتی تیار کی اور اپنی جماعت کو لے کر اس میں سوار ہوئے۔خدا کا غضب پانی کی صورت میں نمودار ہوا۔وہی پانی حضرت نوح کی کشتی کو اٹھانے والا ٹھرا اور اسی نے طوفان کی صورت اختیار کر کے مخالفوں کو تباہ کر دیا اور نتیجہ نے حضرت نوح علیہ السلام کی سچائی پر مہر کر دی۔غرض یہ آسان پہچان ہے راستباز کی۔تمہیں چونکہ اور بھی بہت سے کام ہوں گے میں خطبہ کو ختم کرنا چاہتا ہوں اور پھر مختصری بات کہہ کر آگاہ کرتا ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنی خاص حفاظتوں میں لاتا ہے، ارضی بیماریوں اور دکھوں سے بچاتا ہے، آسمانی مشکلات سے بھی محفوظ رکھتا ہے اور اس کی نصرت فرماتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو بچے طور سے اس کا ساتھ دیتے ہیں یا یوں کہو کہ ان کے رنگ میں رنگین ہو کر وہی بن جاتے ہیں، سچا تقویٰ اور حقیقی ایمان حاصل کرتے ہیں اور مامور کا ادھورا نمونہ بھی بن جاتے ہیں تو مقتدا کی عظمت و ترقی اور نصرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کو بھی شریک کرلیتا ہے۔جو لوگ حضرت اقدس کے رات کے وعظ میں شریک تھے، ان کو معلوم ہو گا اور جو بد قسمتی سے نہیں پہنچے ان کو میں ایک جملہ میں اس کا مغز اور خلاصہ بتا دیتا ہوں کہ انسان سچا متقی، سچا مومن اور خدا کے حضور راستباز تب ٹھہرتا ہے جب وہ دین کو دنیا پر مقدم کرلے۔یہ چھوٹی بات نہیں۔کہنے کو بہت مختصر مگر حقیقت میں تمام نیکیوں کی جامع اور تمام اعمال حسنہ پر مشتمل۔