خطبات نور — Page 56
56 ایک بار ایک شیعہ نے مجھ سے پوچھا کہ تیرہ سو برس کے وہ دلائل جو سنیوں نے حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت کے بیان کئے ہیں اور شیعوں نے جو دلائل ان کے مقابل میں پیش کئے ہیں ان سب کو لکھ دو اور پھر ان پر ایک محاکمہ اور فیصلہ لکھو۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ تیرہ سو برس کے جھگڑے کو فیصل کرنے کے واسطے تو عمر نوح بھی وفا نہیں کر سکتی کیونکہ کہتے ہیں کہ وہ تو ساڑھے نو سو برس ہی اس دنیا میں رہے۔پس مجھے اس وقت اس جھگڑے کے فیصلہ کی تفیم یہ ہوئی اور میں نے لکھ دیا کہ بات یہ ہے کہ چونکہ خلافت کا انتخاب عقل انسانی کا کام نہیں، عقل نہیں تجویز کر سکتی کہ کس کے قومی قوی ہیں کس میں قوت انتظامیہ کامل طور پر رکھی گئی ہے اس لئے جناب الہی نے خود فیصلہ کر دیا ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (النور:۵۶)۔خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔اب واقعات صحیحہ سے دیکھ لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے کہ نہیں؟ یہ تو صحیح بات ہے کہ وہ خلیفہ ہوئے اور ضرور ہوئے۔شیعہ یہی مانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ان کی بیعت آخر کر لی تھی۔پھر میری سمجھ میں تو یہ بات آ نہیں سکتی اور نہ اللہ تعالیٰ کو قوی، عزیز حکیم خدا ماننے والا کبھی و ہم بھی کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ پر بندوں کا انتخاب غالب آگیا تھا۔منشاء الہی نہ تھا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہو گئے۔غرض یہ بالکل سچی بات ہے کہ خلفائے ربانی کا انتخاب انسانی دانشوں کا نتیجہ نہیں ہوتا۔اگر انسانی دانش ہی کا کام ہوتا ہے تو کوئی بتائے کہ وادی غیر ذی زرع میں وہ کیونکر تجویز کر سکتی ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ ایسی جگہ ہوتا جہاں جہاز پہنچ سکتے۔دوسرے ملکوں اور قوموں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اسباب میسر ہوتے۔مگر نہیں۔وادی غیر ذی زرع ہی میں انتخاب فرمایا اس لئے کہ انسانی عقل ان اسباب و وجوہات کو سمجھ ہی نہیں سکتی تھی جو اس انتخاب میں تھی اور ان نتائج کا اس کو علم ہی نہ تھا جو پیدا ہونے والے تھے۔عملی رنگ میں اس کے سوا دوسرا منتخب نہیں ہوا اور پھر جیسا کہ عام انسانوں اور دنیا داروں کا حال ہے کہ وہ ہر روز غلطیاں کرتے اور نقصان اٹھاتے ہیں آخر خائب اور خاسر ہو کر بہت سی حسرتیں اور آرزوئیں لے کر مر جاتے ہیں۔لیکن جناب الہی کا انتخاب بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے۔اس کو کوئی ناکامی پیش نہیں آتی۔وہ جدھر منہ اٹھاتا ہے ادھری اس کے واسطے کامیابی کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور وہ فضل شفاء نور اور رحمت دکھلاتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ (المائدة: ) کی صدا کس کو آئی؟ کیا اپنی دانش اور عقل کے انتخاب کو یا وادی غیر ذی زرع میں اللہ تعالیٰ کے انتخاب کو ؟۔