خطبات نور — Page 57
57 جناب الہی ہی کا منتخب بندہ تھا جو دنیا سے نہ اٹھا جب تک یہ صدا نہ سن لی۔پس یاد رکھو کہ مامور من اللہ کے انتخاب میں جو جناب الہی ہی کا کام ہے چون و چرا کرنی درست نہیں ہے۔ہزارہا مصائب اور مشکلات آئیں وہ اس کوہ وقار کو جنبش نہیں دے سکتیں۔آخر کامیابی اور فتح ان کی ہی ہوتی ہے۔اب یہ سوال پیدا ہو گا کہ پھر ہم اس مامور من اللہ اور منتخب بارگاہ الہی کو کیونکر شناخت کریں ؟ اول یاد رکھو کہ حق اور باطل دو ایسی چیزیں ہیں کہ تم معا دونوں کو شناخت کر سکتے ہو اور ان میں امتیاز کر لیتے ہو۔اسی طرح پر مامور من اللہ کو تم اس کے فوق العادت غیر معمولی کاموں سے شناخت کر سکتے ہو۔علاوہ اس کے اس مامور سے پہلے بھی تو مامور گزرے ہوتے ہیں۔ان حالات کو ان گزرے ہوئے لوگوں کے حالات اور واقعات سے مقابلہ کرو۔یہ یاد رکھو کہ یہ کبھی نہیں ہوا اور نہ ہو گا کہ کوئی مامور اور خلیفہ آئے اور لوگوں نے اس کو بغیر چون و چرا کے مان لیا ہو اور اس کی کوئی مخالفت نہ ہوئی ہو۔خلفائے ربانیین کی تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ ان کی ترقی تدریجی ہوتی ہے۔تاریخ کو جانے دو۔عام مشاہدہ قانون قدرت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک ترقی اپنے اندر تدریج کا سلسلہ رکھتی ہے۔ایک بچہ جو آج ہی پیدا ہو آج ہی جوان نہیں ہو سکتا۔ایک طالب علم جس نے ابھی ابجد شروع کی ہو ابھی عالم فاضل نہیں بن سکتا۔پس یاد رکھو کہ مامور من اللہ کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔اس لئے ایک دم میں اس کی نشو و نما یا ترقی کو معیار نہ ٹھراؤ کہ یہ غلط راہ ہے اور حق سے دور پھینک دینے والی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا لطیف ارشاد فرمایا قُلْ مَا كُنْتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ (الاحقاف) کہہ دو کہ میں کوئی نیا رسول تو نہیں آیا۔مجھ سے پیشتر ایک دراز سلسلہ انبیاء و رسل کاگزرا ہے ان کے حالات دیکھو۔وہ کھاتے پیتے بھی تھے، بیویاں بھی رکھتے تھے۔پھر مجھ میں تم کونسی انوکھی اور نرالی بات پاتے ہو۔غرض یہ مامور ایک ہی قسم کے حالات اور واقعات رکھتے ہیں۔ان پر اگر انسان خدا ترسی اور عاقبت اندیشی سے غور کرے تو وہ ایک صحیح رائے اور یقینی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے جبکہ تم نے سمجھ لیا کہ اللہ تعالی کو سپر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی رضا کا حال معلوم ہو اور وہ مامور من اللہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتی ہے اور مامور من اللہ کی شناخت کا اصول بھی سمجھ لیا۔میں آگے چلتا ہوں۔وَاتَّقُوا الله (البقرة :۱۹۵)۔بڑے بڑے مشکلات اور مصائب پیش آتے ہیں۔اختلافات ہوتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔دشمنوں کی زدوں اور ماموروں کی سادگی کو دیکھتا ہے تو حیرت زدہ ہو جاتا ہے۔ان مشکلات سے نجات پانے کے واسطے ایک ہی راہ ہے۔اللہ کو سپر بنا لو۔نتیجہ یہ ہو گا اِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانًا (الانفال :۳۰)۔اللہ تعالیٰ متقی کو فیصلہ کی راہیں خود بتا دیتا ہے۔ہزاروں ہزار طریقے