خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 637 of 703

خطبات نور — Page 637

۲۱ نومبر ۱۹۱۳ء 637 خطبہ جمعہ تشهد و تعوذ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی۔وَ إِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَ إِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوْا اَ تُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (البقرة:) - اور پھر فرمایا:۔انسان کے ذمے تین طرح کے حقوق ہیں۔اول اللہ تعالٰی کے۔دوم اپنے نفس کے۔سوم مخلوقات کے۔ان حقوق کے متکفل قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ہیں۔جناب الہی کے حقوق کون بیان کر سکتا ہے۔عقل میں تو نہیں آسکتے۔جس طرح وہ وراء الوراء ہستی ہے، اس کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں۔جب انسان ایک دوسرے انسان کی رضامندی کے طریقے کو اچھی طرح نہیں جان سکتا تو خدا تعالیٰ کی رضامندی کے رستوں کو کب کوئی پاسکتا ہے۔اور جب انسان کے حقوق کو نہیں سمجھ سکتے تو خدا کے حقوق کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً میں یہاں کھڑا ہوں۔تم میری رضامندی کی راہ کو نہیں جانتے تو وہ ذات جو لَیسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ (الشوری:) ہے اس کے حقوق کیونکر انسان سمجھ سکتا ہے۔اسی طرح انسان کے حقوق بھی ہیں۔انسان بہت کچھ غلطیاں کر جاتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ایک قانون بنایا ہے۔