خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 614 of 703

خطبات نور — Page 614

۳ اکتوبر ۱۹۱۳ء 614 خطبه جمعه حضرت امیر المومنین نے سورۃ بقرہ کے پانچویں رکوع (يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ (البقرۃ:۳۷) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔قرآن کریم عجیب عجیب پیرائے میں نصیحتیں فرماتا ہے۔بہادر سپاہی کی اولاد! تم بھی غور کر لو۔کوئی اپنے آپ کو سید سمجھتا ہے۔وہ اپنے بڑوں کی بہادری پر کتنا فخر کرتا ہے۔کوئی قریشی کہلاتا ہے وہ سیدوں کو اپنی جزء قرار دیتا ہے۔اسی طرح کوئی مغل ہے کوئی پچھان کوئی شیخ فرض مخلوق کے تمام گروہ اپنے آپ کو کسی بڑے آدمی سے منسوب کرتے ہیں۔مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ بڑا آدمی کیوں بنا؟ اپنے اعمال سے۔پس اگر تم ان اعمال کے خلاف کرو گے تو کیا بڑے بن سکتے ہو ؟ ہرگز نہیں۔جو بہادری انسان کو بڑا بنا سکتی ہے کیا اس بہادری کا ترک کر دینا انسان کو بزدل نہیں بنا سکتا۔مجھے ہمیشہ بڑا تعجب آتا ہے کہ انسان بڑوں کی بڑائی پر فخر کرتا ہے مگر اپنی طرف غور نہیں کرتا کہ میں اپنے خاندان کو بڑا بنا رہا ہوں یا اس کے غرق کرنے کے درپے ہوں۔ایک چھوٹا آدمی ہمارے شہر بھیرہ میں بڑا بن گیا اور بڑا ذلیل ہو گیا۔وہ جو ذلیل ہو چکا تھا ایک دن اس بڑا بننے والے کی تحقیر کرنے لگا۔میں نے اسے کہا۔کیا تمہاری طاقت ہے کہ اس کے برابر بیٹھو یا جیسا گورنمنٹ میں اس کا اعزاز ہے اور وہ