خطبات نور — Page 615
615 کرسی نشین ہے کیا تم بھی کسی حاکم کے سامنے جانے کے قابل ہو۔وہ تم سے کئی درجے اچھا ہے۔کیونکہ اس نے نابود کو بود بنا دیا اور تم نے بود کو نابود کیا۔اب بتاؤ کہ تم بڑے ہو یا وہ ؟ پس میرے پیارو! اگر تم بڑوں کی اولاد ہو اور خدا نے تمہیں تیرہ سو برس سے عزت دی تو بڑوں کے کاموں کو نابود کرنے والے نہ بنو۔تم خود ہی بتاؤ کہ وہ شرک کرتے جھوٹ بولتے دھوکا کرتے، دوسروں کو دکھ دیتے تھے ؟ ہرگز نہیں۔تو کیا تم ان افعال کے مرتکب ہو کر بڑے بن سکتے ہو ؟ بنی اسرائیل کو تو خدا نے شام میں بڑائی دی تھی مگر اسلام نے یہاں تک معزز کیا کہ تمہیں سارے جہان میں عظیم الشان بنا دیا۔اس نعمت کا شکر کرو۔کیونکہ یہ آیت اُذْكُرُوا نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَإِنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (البقرة: ۴۸) تمہیں انعامات الہی یاد دلانے کے لئے نازل ہوئی ہے۔اگر تم انعام الہی کی ناقدری کرو گے تو اس کا وعید تیار ہے۔کیونکہ جس طرح نیکی کا پھل اعلیٰ درجے کا آرام ملتا ہے ایسا ہی بدی کا پھل بھی ذلت و ادبار کے سوا کچھ نہ ہو گا۔یہود کو کفران نعمت کی سزا میں پہلے مدینہ سے نکالا گیا تو لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُ جَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيْعُ فِيكُمْ أَحَدًا اَبَدًا وَّ اِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ (الحشر: ) کہنے والے کچھ کام نہ آئے۔پھر جب مدینہ سے نکالے گئے تو ان کا کوئی مددگار نہ ہوا۔اسی طرح مسلمانوں کے ساتھ بھی معاملہ ہوا۔سپین سے ایک دن میں نکال دیئے گئے۔لاکھوں لاکھ تھے جنہوں نے جانے سے ذرا چوں و چرا کی ان کو عیسائی بنالیا گیا۔اب سیاحوں سے پوچھو۔اسلام کا وہاں نام نشان تک نہیں۔مسجدیں ہیں اور چند عدالت کے کمرے۔تمہارے رلانے کے لئے رکھ چھوڑے ہیں۔اسی طرح مراکش ہے۔پھر طرابلس میں کئی لاکھ کا کتب خانہ تھا۔بنوامیہ کی اتنی بڑی سلطنت تھی کہ ایک طرف چین اور ایک طرف فرانس سے اس کے حدود ملتے تھے۔مگر اب یہ حال ہے کہ کوئی اپنے بیٹے کا نام یزید یا معاویہ نہیں رکھتا۔یعنی جن کی مدح سرائی ہوتی تھی اب ان کا نام تک رکھنے کے روادار نہیں۔پھر عباسیوں کی سلطنت تھی۔ایک دفعہ محمود غزنوی سے ان کی کچھ رنجش ہو گئی۔محمود غزنوی نے اس خلیفہ کو لکھا کہ میں ہندوستان کا فاتح ہوں اور میرے پاس اتنے ہاتھی ہیں۔خلیفہ نے اس کے جواب میں الم الم نہایت خوبصورت لکھوا کر بھیج دیا۔محمود کے دربار میں تو سب فارسی دان ہی تھے۔چنانچہ اس زمانے کی یادگار صرف شاہنامہ ہی باقی ہے۔وہ تو کچھ سمجھے نہیں۔آخر محمود نے کہا کہ خلیفہ ن أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحَابِ الْفِيلِ (الفيل :٢) یاد دلائی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس ہاتھی ہیں تو ہمار اوہ رب جو اصحاب فیل کو ہلاک کر چکا ہے۔بہت ڈر گیا اور معذرت کی جس