خطبات نور — Page 571
۲۷ جون ۱۹۱۳ء 571 خطبہ جمعہ حضرت خلیفة المسیح نے خطبہ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَأَي ذِي الْقُرْنِي (النحل) پر پڑھا۔فرمایا عدل ایک صفت ہے اور بہت بڑی عجیب صفت ہے۔عدل ہر شخص کو پیارا لگتا ہے اور بہت پیارا لگتا ہے۔عادل ہر ایک شخص کو پسند ہے اور بہت پسند ہے۔کان رس کے طور پر بھی عدل کا لفظ پیارا ہے۔اپنی ذات کے متعلق بھی جب آدمی کو ضرورت پڑے اسے عدل بہت پیارا لگتا ہے۔مگر نہایت تعجب ہے باوجود اس کے کہ عدل نہایت پسندیدہ چیز ہے جب دوسرے کے ساتھ معاملہ پڑے تو انسان عدل بھول جاتا ہے۔عجائبات جو میں نے دنیا میں دیکھتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اللہ کو بھی مانتے ہیں اور پھر تھر کے بت پانی کے دریا پیپل اور بڑ کے درخت، جانوروں میں سانپ اور گائے کی پرستش کرتے ہیں۔مجھے بڑا تعجب آتا ہے کہ اتنی بڑی عظیم الشان ذات کو چھوڑ کر اونی چیز کو کیوں اختیار کرتے ہیں۔اس طرح عدل کے معاملہ میں بھی کئی سو تعجب دنیا میں مجھے ہوا ہے۔ایک تعجب ہے کہ انسان عدل کو اپنے لئے اپنے دوستوں کے لئے اپنے خویش و اقارب کے لئے بہت پسند کرتا ہے مگر جب دوسرے کے