خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 467 of 703

خطبات نور — Page 467

467 ضرور دے گا اور اگر ہم خلاف ورزی کریں گے تو اس کے بد نتیجے کا منتظر رہنا پڑے گا۔دوسری بات جو سمجھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ باہم محبت بڑھاؤ اور بغضوں کو دور کر دو اور یہ محبت بڑھ نہیں سکتی جب تک کسی قدر تم صبر سے کام نہ لو اور یاد رکھو صبر والے کے ساتھ خدا خود آپ ہوتا ہے۔اس واسطے صبر کنندہ کو کوئی ذلت و تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔تیسری بات جو میں کہنی ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت صاحب نے "فتح اسلام" میں پانچ شاخوں کا ذکر کیا ہے اور ان پانچ شاخوں میں چندہ دینے کی تاکید کی۔مثلاً آپ کی تصانیف کی اشاعت اشتہارات کی اشاعت، آپ کے لنگر خانہ کو مضبوط کرنے کی تاکید اور مہمان خانہ کی ترقی کی طرف توجہ اور آمد و رفت پر بعض وقت جو خرچ پڑتے ہیں۔ان کے لئے مکان بنانے پڑتے ہیں۔ان میں انفاق کرنے کی تاکید آپ نے فرمائی ہے۔میں اس تاکید پر تاکید کرتا ہوں کہ ہمارا مہمان اور دینی مدرسه بهت کمزور رنگ میں ہے۔ہمارے بھائیوں کو توجہ کرنی چاہئے کہ ان دونوں امور کی طرف بہت کوشش کریں اور انفاق سے کام لیں۔پھر یہ بھی تاکید کرتا ہوں جو کتابیں بیچتے ہیں اور بہت اخلاص سے کام لیتے ہیں ان کی کتابوں میں دو آنہ چار آنہ کی امداد دینے سے دریغ نہ کریں۔ایک ہمارے دوست مولوی حسن علی صاحب نے اخلاص سے تائید حق" نام لکھی ہے۔حضرت صاحب کے زمانہ میں اس کو شائع کیا ہے لیکن اس کی کئی سو جلدیں یہاں پڑی ہیں وہ بھی خرید لیں۔میں یہ باتیں اس لئے بتاتا ہوں کہ تم کو دین اور دنیا دونوں کا وعظ کروں۔یہ نہیں کہ مجھے دنیا کی غرض ہے کیونکہ میری عمر کا بہت بڑا حصہ اللہ کے فضل سے گزرا ہے۔یہ تھوڑے دن جو باقی ہیں، میں مخلوق سے سوال کرنے میں اپنی ہمت کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔بد ر جلد ۹ نمبر ۲۳۔۔۔۔۔۳۱ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۴۔۵) ⭑-⭑-⭑-⭑