خطبات نور — Page 466
466 کتابوں پر جو اللہ تعالی نے بھیجیں ایمان رکھتا ہوں۔میرا یقین ہے کہ تمام انبیاء تمام اولیاء اور تمام انسانی کمالات کے جامع لوگوں میں ایک ہی ہے جس کا نام محمد برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔میرے واہمہ کے واہمہ میں بھی نہیں آتا کہ کوئی اور ہو۔حضرت صاحب کا ایک شعر یاد آگیا۔اے در انکار و شی از شاہ دیں خادمان و چاکرانش را ہیں ہم جب دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام کیسے پاک گروہ تھے اور مجدد کیسے۔یہ تو قصے کہانی بات ہو جاتی۔لیکن تمہارا وجود اس گاؤں میں گواہی ہے کہ احمد کا غلام بننے سے کیا فضل آتا ہے۔میں تم کو اب اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ میرے پھر تقریر کرنے تک تمہیں کوئی بات سنائے یا تقریر کرے تو یاد رکھو ہمارا معیار یہ ہو گا کہ ان مذکورہ بالا عقائد کے موافق کوئی بات ہو یا اس کی تفصیل ہو تو ہماری طرف سے ہے اور اگر اس کے خلاف کسی کے منہ سے نکلے تو وہ ہمارے عقائد کے مطابق نہیں۔اسلام چونکہ حق کے اظہار کے لئے آیا ہے جیسا کہ اس سورۃ شریف سے ظاہر ہے اس لئے جہاں دین کی بہت سی باتیں پہنچانی پڑتی ہیں وہاں ہم تم کو دنیا کے متعلق بھی ایک مختصر سی بات سناتے ہیں۔اور وہ بھی دراصل دین ہی کی بات ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کا کام امن پر موقوف ہے اور اگر امن دنیا میں قائم نہ رہے تو کوئی کام نہیں ہو سکتا۔جس قدر امن ہو گا اسی قدر اسلام ترقی کرے گا۔اس لئے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امن کے ہمیشہ حامی رہے۔آپ نے طوائف الملو کی میں جو مکہ معظمہ میں تھی اور عیسائی سلطنت کے تحت جو حبشہ میں تھی ہم کو یہ تعلیم دی کہ غیر مسلم سلطنت کے ماتحت کس طرح زندگی بسر کرنی چاہئے۔اس زندگی کے فرائض سے امن ہے۔اگر امن نہ ہو تو کسی طرح کا کوئی کام دین و دنیا کا ہم عمدگی سے نہیں کر سکتے۔اس واسطے میں تاکید کرتا ہوں امن بڑھانے کی کوشش کرو۔اور امن کے لئے طاقت کی ضرورت ہے وہ گورنمنٹ کے پاس ہے۔میں خوشامد سے نہیں بلکہ حق پہنچانے کی نیت سے کہتا ہوں کہ تم امن پسند جماعت بنو تا تمہاری ترقی ہو اور تم چین سے زندگی بسر کرو۔اس کا بدلہ مخلوق سے مت مانگو۔اللہ سے اس کا بدلہ مانگو۔اور یاد رکھو کہ بلا امن کوئی مذہب نہیں پھیلتا اور نہ پھول سکتا ہے۔میں اس کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ حضرت صاحب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے اس احسان کے بدلہ میں ہم اگر امن کے قائم کرنے میں کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ اس کا نتیجہ ہم کو