خطبات نور — Page 435
435 کتابیں لکھی ہیں میں بھی لکھوں۔ان میں سے بہت بڑی کتاب امام شعرانی کی ہے۔بڑی دلچسپ کتاب ہے۔اس کا ترجمہ اختصاری رنگ میں اپنے مذاق کے لحاظ سے نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی کیا ہے۔چنانچہ میں نے ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کیا مگر خدا کے انعامات کی اتنی برسات میں نے دیکھی کہ شرم سے میرا قلم رک گیا۔فرمایا کہ اگر برسات کے قطروں کو گن سکتا ہے تو خدا کے احسانات کو بھی گن سکے گا۔چنانچہ خدا نے فرمایا إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (ابراهیم ۳۵)۔ان احسانات میں سے ایک وحدت بھی ہے جس کی نسبت فرماتا ہے کہ اگر ساری زمین سونے چاندی کی بھر کر دے دو تو بھی یہ وحدت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس کا میں نے بھی تجربہ کیا ہے۔ایک زمانہ میں میرے پاس بڑا روپیہ آتا تھا اور مجھے روپے کی محبت ہر گز نہیں۔میں اپنی تعریف نہیں کرتا بلکہ اس کے فضل کا اظہار۔یہ لوگ جو بطور شاگر د میرے پاس رہتے ہیں اگر چہ بعض لوگ ان کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے ارد گرد بیٹھے رہتے ہیں اور احداث میں خلا ملا رکھتا ہے، ان سے پوچھ لو کہ مال میں میرا مولیٰ کیسا متکفل ہے اور میں اس معاملہ میں اس کی ربوبیت کے بہت سے عجائبات دیکھ چکا ہوں۔اسی ربوبیت کے چٹھے کا فیضان ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسا نبی ہم میں آیا۔پھر وہ مذہب ملا جس کی حمایت و نصرت کے لئے ہر صدی میں یقیناً امام آئے جن کی تعلیم دیکھ کر ہم حیران رہ جاتے ہیں کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کیسے قدم بہ قدم چلایا ہے۔اماموں کے متعلق ایک مذہب ہے کہ پچاس برس کے بعد ایک امام آتا ہے۔دوسرا مذ ہب ہے کہ پچیس برس کے بعد وہ تعلیم رسالت پناہ کو محفوظ رکھتا ہے۔خیر یہ بھی اسی کی ربوبیت کا تقاضا ہے۔غرض اس نے ہمیں عدم سے وجود بخشا، وجود سے بقا پھر عقل و فہم و ذکا پھر اعضاء صحیحہ عطاکئے۔پھر ہمیں توفیق دی کہ ہم مسلمان ہوئے۔میں نے بڑے بڑے ذہین اور ہوشیار آدمی اسلام سے متنفر دیکھے ہیں جن کو میں نے عجیب عجیب طور سے قائل کیا ہے مگر اسلام کی توفیق نہیں ملی۔پس توفیق بھی نعمت ہے جناب اللہی سے۔ہم نے دیکھا ہے بعض کو دین کا شوق نہیں اور اگر ہے تو ذہن اس قابل نہیں یا ذہن تو ہے مگر سامان نہیں، سامان ہے تو صحت نہیں ، صحت تو ہے کوئی اور مشکل ہے۔مثلاً دنیوی علائق کی وجہ سے فرصت نہیں ، جو فرصت ہے تو پھر یہ وقت ہے کہ کتابیں بچی نہیں ملیں۔بعض کو توفیق ملتی ہے مگر ارادے میں ثبات نہیں۔آج نماز کا شوق چرایا ہے، زندگی وقف کرنے پر تلے بیٹھے ہیں مگر تھوڑے دن بعد کچھ بھی نہیں۔حالانکہ قول بلا عمل کیا ہستی رکھتا ہے۔غرض سب باتیں موقوف ہیں فضل الہی پر جو ربوبیت کی صفت سے فیض لینے پر حاصل ہوتی ہیں۔