خطبات نور — Page 434
434 بہت سے لوگ ہیں جو امیر ہیں۔بہت سے لوگ اخلاص ظاہر کرتے ہیں۔چندے بھی دیتے ہیں۔بہت سے خوشامد کرتے ہیں اور ایسے ایسے بھاری لقب دیتے ہیں جو شاید ہماری نسل میں سے کسی کو نہ دیئے گئے ہوں۔مگروہ آدمی جو فرمانبرداری میں غرق اور کسی بات کی پروا نہ کرے وہ ملے تو بے نظیر و اکسیر ہے۔فرمانبرداری بڑی اعلیٰ صفت ہے۔ہاں یہ سمجھ لے کہ جو حکم دیا گیا ہے وہ مال عزت دین کو نقصان پہنچانے والا تو نہیں۔یا قرب الہی سے دور کرنے والا تو نہیں۔ایسے شخص کے پاس بھی ہرگز نہ بیٹھنا چاہئے۔ہمارے بزرگوں میں سے ایک شعر پڑھا کرتے تھے۔با ہر که نشستی و نشد جمع دلت و از تو نه رپید صحبت آب و گلت زنبار زصحبتش گریزان می باش یعنی جس کی صحبت میں بیٹھ کر جمعیت تامہ اور کچی طمانیت حاصل نہ ہو اور اعلیٰ اغراض کے لئے ادنیٰ اغراض کی قربانیوں کی توفیق نہ ملے تو اس کی صحبت کی اجازت نہیں۔چنانچہ کہا ہے۔ربوبیت ورنه نه کند روح عزیزان بحلت اسی طرح اس سے آگے ربوبیت کا درجہ ہے۔ہم نہ تھے۔اس نے ہمیں وجود بخشا زندگی دی ، بیان سکھایا، قومی دیئے۔میں اپنے قومی پر خود ہی حیران ہوں اور میرا دل رقص میں آجاتا ہے کہ اس نے مجھے کان کیسے دیئے ہیں۔آنکھیں کیسی کیسی عطا کی ہیں۔زبان کیسی دی ہے۔دماغ کیسا دیا۔دل کیسا دیا ہے کہ ساری دنیا قربان ہو جاوے پر میرے مولیٰ کی بڑائی ہو جاوے۔رسول اللہ سے ایسی محبت بخشی ہے کہ میرے کسی گوشہ میں آپ کی تعلیم ، آپ کی اولاد آپ کی آل سے ذرا بھی بغض نہیں رہا۔میں نے اتنی تاریخیں پڑھی ہیں خارجی، شیعہ رافضی کی مگر پھر بھی کسی صحابی سے مجھے رنج نہیں۔نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیوی سے نہ کسی آل و اولاد سے رنج ہے اور یہ خدا کا فضل ہے اور اسی کی ربوبیت کی شان سے ہے۔حضرت صاحب یعنی ہمارے مرزا صاحب فرمانے لگے کہ ایک دفعہ میں نے چاہا جیسے اور صوفیوں نے