خطبات نور — Page 436
مختصر نصیحت 436 میں تمہیں مختصر نصیحت کرتا ہوں۔بعض لوگ ہیں جو نماز میں کسل کرتے ہیں اور یہ کئی قسم ہے۔(۱) وقت پر نہیں پہنچتے۔(۲) جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے۔(۳) سنن و رواتب کا خیال نہیں کرتے۔کان کھول کر سنو! جو نماز کا مضیع ہے اس کا کوئی کام دنیا میں ٹھیک نہیں۔زکوۃ۔بعض لوگ زکوۃ کے حکم کی تعمیل میں کسل کرتے ہیں۔وہ اس بات کی تہ کو نہیں پہنچتے کہ صلوۃ کے ساتھ ہی زکوۃ کا ذکر بھی قرآن مجید میں کیوں ہے؟ دراصل تعظیم لامر اللہ کے ساتھ شفقت علی خلق بھی ضروری ہے۔اگر کسی کے پاس بھی ہوتی ہے تو کیا حرج ہے کہ وہ پرانی جوتی کسی مسکین کو دیدے۔یہ کہنا کہ پرانی کیچڑ کے لئے رکھ لی ہے، حد درجے کی سفیہانہ بات ہے۔اسی طرح میں نے پرانے کپڑوں پرانے لحافوں کی نسبت بارہا توجہ دلائی ہے۔یہی حکم علم کا ہے کہ اگر خدا نے تمہیں علم بخشا ہے تو اس کی زکوۃ ہے کہ دوسروں کو پڑھا دیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ بہت لوگ اس زکوٰۃ میں مضائقہ کرتے ہیں۔ایک شخص کو میں نے پڑھانے کی نسبت کہا۔اس نے بڑی جلدی اور شوق سے منظور کر لیا مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ ڈیوٹیوں کا حساب آپ جانتے ہوں گے۔یہ زکوۃ کا طرز نہیں۔میرے نزدیک ہر شخص پر زکوٰۃ فرض ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف میں نصاب کا ذکر نہیں۔امام حسن بصری سے کسی نے زکوٰۃ کا مسئلہ پوچھا۔آپ نے فرمایا ہمارے ہاں تو زکوۃ یہ ہے کہ کسی کے پاس چالیس ہوں تو وہ اکتالیس بھر دے اور علماء کی زکوۃ یہ ہے کہ چالیس ہوں تو ایک دے۔غرض ہر ایک کو زکوۃ دیتے رہنا چاہئے مگر یہ موقوف ہے توفیق پر جس کے حصول کا گر دعا ہے۔میرے بھائی سلطان احمد تھے۔انہوں نے مجھے خط لکھا کہ "سَوفَ سَوف" نہ کریو کیونکہ موت کا وقت آجاتا ہے اور کام پورے نہیں ہوتے۔اس لئے جب توفیق ملے اسی وقت وہ نیک کام کر دے۔یہ میرا اپنا صحیح تجربہ ہے۔شریعت اجازت نہیں دیتی کہ کام کو دوسرے وقت پر ڈالا جاوے۔يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وقلبه (الانفال:۲۵) کے علماء نے یہی معنے لکھے ہیں کہ جب وقت ملے اسی وقت کام کرے ورنہ روک پیدا ہو جاتی ہے۔میں تمہیں بہت کچھ سنانا چاہتا تھا مگر جمعہ بھی ہے اور اس میں بھی میں نے ہی بولنا ہے (ناظرین اس فقرہ سے سمجھ گئے ہوں گے جو مضمون اللہ اور رب کے اسماء کی تفسیر اور اس میں قربانی کی تعلیم پر چل رہا