خطبات نور — Page 408
408 خطبات نوبه پھر آپ نے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ (البقرة) پڑھ کر فرمایا کہ صحابہ نے رمضان کے مہینے کی برکات سن کر دوسرے چاندون کی نسبت بھی پوچھا۔اصل میں تمام عبادتیں چاند سے متعلق ہیں اور دنیاداروں کی تاریخیں سورج سے۔اس میں یہ نکتہ ہے کہ چاند کے حساب پر عبادت کرنے کی وجہ سے سورج کی کوئی تاریخ خالی نہیں رہتی جس میں امت محمدیہ کے افراد نے روزہ نہ رکھا ہو یا زکوۃ نہ دی ہو یا حج نہ کیا ہو۔کیونکہ قریباً گیارہ روز کا ہر سال فرق پڑتا ہے اور ۳۶ سال کے بعد وہی دن پھر آجاتا ہے۔پھر قَاتِلُوا فِي سَبِیلِ اللهِ (البقرة :) کی تفسیر میں فرمایا کہ اسلام کے دشمن اسلام کے خلاف کوشش کرتے رہتے ہیں۔مسلمانوں میں نہ تعلیم ہے، نہ روپیہ نہ وحدت نہ اتفاق نہ وحدت کے فوائد سے آگاہ نہ بجھتی کی روح نہ اپنی حالت کا علم۔ملاں کی ذلیل حالت دیکھ کر مسجدوں میں جاتا تک چھوڑ دیا۔تم سنبھلو اور ان کوششوں کے خلاف دشمن کا مقابلہ کرو مگر حد سے نہ بڑھو۔اپنے مومن بھائیوں سے حسن ظنی کرو۔ایک نے مجھے کہا تھا حسن ظنی کر کے کیا کریں۔اس میں سراسر نقصان ہے۔میں نے کہا کم از کم اپنی والدہ کے معاملہ میں تو تم کو بھی حسن ظنی سے کام لینا پڑے گا ورنہ تمہارے پاس اپنے باپ کے نطفہ سے ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ اسلام پر قائم رہو۔یہ وہ مذہب ہے جس کا ماننے والا کسی کے آگے شرمندہ نہیں ہوتا۔اس کا اللہ تمام خوبیوں کا جامع ہے۔( بدر جلد ۸ نمبر ۴۵-۲۰/ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه) ⭑-⭑-⭑-⭑