خطبات نور — Page 407
۲۰ اگست ۱۹۰۹ء 407 تشہد اور تعوذ کے بعد فرمایا:۔خطبہ جمعہ میں اپنے پیشہ طبابت میں دیکھتا ہوں۔ایک شخص آتا ہے کہ آپ کی دوانے بہت فائدہ پہنچایا۔دوسرا آ کے کہتا ہے کہ بہت ہی نقصان پہنچایا۔پس میں نہ پہلی بات پر خوش ہو تا ہوں نہ دوسری پر غمناک بلکہ میں یہی سمجھتا ہوں کہ میرا کام ہمدردی ہے۔دوائیں خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں۔پس میں ان کو دیتا ہوں۔جس کے لئے وہ چاہتا ہے نافع بنا دیتا ہے اور جن کے لئے وہ چاہتا ہے مضر۔ایک خطرناک قریب المرگ مریض کو دو دن میں اچھا کر دیتا ہے اور ایک معمولی مریض کو ایک دو دن میں خلاف امید مار دیتا ہے اور میں الگ رہتا ہوں۔اس نکتہ نے مجھے روحانی طبابت میں بھی حوصلہ اور صبر دیا ہے۔میں نے سلسلہ درس کو قطع کر کے ان چند بیماریوں کے متعلق جو تم لوگوں میں دیکھیں خصوصیت سے وعظ کیا۔اب جن کو خدا نے فائدہ پہنچاتا تھا ان کو پہنچا دیا۔جن کو نہیں پہنچانا تھا یعنی جنہوں نے فضل الہی کے جذب کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں کیا اور بد پرہیزی نہیں چھوڑی، نسخہ استعمال نہیں کیا، ان کو فائدہ نہیں ہوا۔