خطبات نور — Page 409
۱۰ ستمبر ۱۹۰۹ء 409 خطبہ جمعہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے آیت قرآنی سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَهُمْ مِنْ ايةٍ بَيِّنَةٍ وَ مَنْ تُبَدِّل نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔(البقرة : ۳۱۳) کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔بنی اسرائیل کو کس قدر کھلے کھلے نشان دیئے۔ان کے دشمن کو ان کے سامنے اسی بحر میں جس سے وہ صحیح سلامت نکل آئے ان کے دیکھتے دیکھتے ہلاک کیا۔ان کے املاک کا وارث کیا اور پھر یہ کہ بنی اسرائیل سب کے سب غلام تھے۔حضرت موسی خود فرماتے ہیں وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنْ عَبَدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ (الشعراء:۲۳)۔خدا نے ان پر یہاں تک فضل کیا کہ غلامی سے بادشاہی دی نبوت دی۔تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت دی۔چنانچہ فرماتا ہے اِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبِيَاءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكًا واتَكُمْ مَا لَمْ يُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ (المائدة (۳)۔لیکن جب بنی اسرائیل نے ان انعامات الہی کی کچھ قدر نہیں کی تو بَاءُ وَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللهِ (البقرة:٣) اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَ