خطبات نور — Page 30
30 انسان کو پیدا کیا۔چنانچہ فرماتا ہے إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ أَمْشَاجِ نَّبْتَلِيْهِ (الدھر:۳) ہم نے انسان کو نطفہ سے بنایا۔نطفہ میں صدہا چیزیں ایسی ہیں جن سے انسان بنتا ہے۔عام طور پر ہم لوگ ان کو دیکھ نہیں سکتے۔کوئی بڑی اعلی درجہ کی خورد بین ہو تو اس کے ذریعہ سے وہ نظر آتے ہیں۔پھر بتلایا کہ پہلا انعام تو عطاء وجود تھا پھر یہ انعام کیا فَجَعَلْنَهُ سَمِيعًا بَصِيرًا۔خدا ہی کا فضل تھا کہ کان دیئے آنکھیں دیں اور سنتا دیکھتا بنا دیا۔سارے کمالات اور علوم کا پتہ کان سے لگ سکتا ہے یا نظارہ قدرت کو دیکھ کر انسان باخبر ہو سکتا ہے۔یہ عظیم الشان عطیے بھی کس کی جناب سے ملے ؟ موٹی کریم ہی کی حضور سے ملے۔آنکھیں ہیں تو نظارہ قدرت کو دیکھتی ہیں۔خدا کے پاک بندے اس کے پاک صحیفوں کو دیکھ کر حظ اٹھاتے ہیں۔کان کے عطیہ کے ساتھ زبان کا عطیہ بھی آگیا۔کیونکہ کان اگر نہ ہوں تو زبان پہلے چھن جاتی ہے۔اب اگر ان میں سے کوئی نعمت چھن جاوے تو پتہ لگتا ہے کہ کیسی نعمت جاتی رہی۔آنکھ بڑی نعمت ہے یا کان بڑی دولت ہے۔ان عطیوں میں کوئی بیماری یا روگ لگ جاوے تو اس ذرا سے نقصان کی اصلاح کے لئے کس قدر رو پیه وقت خرچ کرنا پڑتا ہے۔مگر یہ صحیح سالم 'محمد' بے عیب بے روگ عیلیے اس مولی کریم نے مفت بے مزد عنایت فرمائے ہیں۔یوں نظر اٹھاتے ہیں تو وہ عجیب در عجیب تماشا ہائے قدرت دیکھتے ہوئے آسمان تک چلی جاتی ہے۔ادھر نظر اٹھاتے ہیں تو خوش کن نظارے دیکھتی ہوئی افق سے پار جا نکلتی ہے۔کان کہیں دلکش آوازیں سن رہے ہیں، کہیں معارف و حقایق قدرت کی داستان سے حظ اٹھاتے ہیں، کہیں روحانی عالم کی باتوں سے لطف اٹھا رہے ہیں۔بیشک یہ مولیٰ کریم ہی کا فضل اور احسان ہے کہ ایسے انعام کرتا ہے۔پیدا کرتا ہے اور پھر ایسی بے بہا نعمتیں عطا کرتا ہے۔کسی کی ماں کسی کا دوست کسی کا باپ وہ نعمتیں نہیں دے سکتا جو خدا تعالیٰ نے دی ہیں۔پھر اسی پر بس نہیں فرمائی۔اِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ (الدهر :) ہم نے انسان کو ایک راہ بتلائی۔یہی ایک مسئلہ ہے جو بڑا ضروری تھا۔ہم پیدا ہوئے سب کچھ ملا مگر کوئی کتنی کوششیں کرے ہمیشہ کے لئے نہ کوئی رہا ہے نہ رہے گا۔سارے انبیاء و رسل، تمام اولیاء و کبراء ملت تمام مدبر اور بڑے بڑے آدمی سب کے سب چل دئے۔پس کوئی ایسا انعام ہو جو ابدالآباد راحت اور سرور کا موجب ہو۔اس کے لئے فريليا إِنَّا هَدَيْنَاهُ الشینیل ہم نے ایک راہ بتلائی، اگر اس پر چلے تو ابد الاباد کی راحت پا سکتا ہے۔اس پاک راہ کی تعلیم ہمیشہ ہمیشہ خدا تعالی کے برگزیدہ بندوں کی معرفت ہوئی ہے۔گو خود فطرت انسانی میں اس کے نقوش موجود ہیں۔بہت مدت گذری جب کہ دنیا میں ایک عظیم الشان انسان اس پاک راہ کی