خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 703

خطبات نور — Page 31

31 ہدایت کے لئے آیا جس کا نام آدم علیہ السلام تھا۔پھر نوح ابراہیم موسیٰ، عیسی علیم السلام آئے اور ان کے درمیان ہزاروں ہزار مامور من اللہ دنیا کی ہدایت کو آئے۔اور ان سب کے بعد میں ہمارے سید و مولی سید ولد آدم فخرالاولین والآخرین افضل الرسل و خاتم النبین حضرت محمد رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔اور پھر کیسی رہنمائی فرمائی کہ ان کے ہی نمونہ پر ہمیشہ خلفاء امت کو بھیجتا رہا۔حتی کہ ہمارے مبارک زمانہ میں بھی ایک امام اس ہدایت کے بتلانے کے لئے مبعوث فرمایا۔اور اس کو اور اس کے اقوال کو تائیدات عقلیہ اور نقلیہ و آیات ارضیہ و سماویہ سے موید فرما کر روز بروز ترقی عطا کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح الہی ہاتھ ایک انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح آئے دن اس کے اعداء نیچا دیکھتے ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ہاں تو پھر خدا کی ایک ممتاز جماعت ہمیشہ اپنے اقوال سے اس راہ کو بتلاتی اور اپنے اعمال سے نمونہ دکھلاتی ہے جس سے ابدی آرام عطاء ہو۔پھر دیکھو کہ انعام الہی تو ہوتے ہیں مگر ان انعامات کو دیکھنے والے دو گروہ ہوتے ہیں۔اِمَّا شَاكِرَا وَ اِمَّا كَفُورًا - (الدھر:۴) ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان ہدایات کی قدر کرتے ہیں اور ایک وہ ہوتے ہیں جو قدر نہیں کرتے ہیں۔اور ان دستوروں پر عمل در آمد نہیں دکھاتے۔ہمیشہ سے یہی طریق رہا ہے۔ایک گروہ جو سعادتمندوں کا گروہ ہو تا ہے ان پاک راہوں کی قدر کرتا ہے اور اپنے عمل درآمد سے بتلا دیتا ہے کہ وہ فی الحقیقت اس راہ کے چلنے والے اور اس راہ کے ساتھ پیار کرنے والے ہیں اور دوسرے اپنے انکار سے بتلا دیتے ہیں کہ وہ قدر نہیں کرتے۔یہ قرآن شریف جب آیا اور ہماری سید و مولی، رسول اکرم مخربنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اور پھر اپنے کامل اور پاک نمونہ سے ہدایت کی راہ بتلائی تو بہت سے نابکار سعادت کے دشمن انکار اور مخالفت پر تل پڑے۔اور جو سعادت مند تھے وہ ان پر عمل کرنے کے لئے نکلے اور دنیا کے سرمایہ فخرو سعادت اور راحت و آرام ہوئے اور ان کے دشمن خائب و خاسر اور ہلاک ہوئے۔آخر وہ سعادت کا زمانہ گزر گیا۔دور کی باتیں کیا سناؤں۔گھر کی اور آج کی بات کہتا ہوں۔اب بھی اسی نمونہ پر ایک وقت لایا گیا اور وہی قرآن شریف پیش کیا گیا ہے۔مگر سعادت مندوں نے قدر کی اور ناعاقبت اندیش نابکاروں نے ناشکری اور مخالفت۔مگر نادان انسان کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انعام الہی کی ناقدری کرنے سے ہم سے کوئی باز پرس نہ ہو گی۔ان کا یہ خیال غلط ہے۔دنیوی حکومت میں ہم دیکھتے ہیں کہ کسی حاکم کا حکم آجادے اور پھر رعایا اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو سزا یاب ہوتی ہے۔نہ مانے والوں کا آرام رنج سے اور ان کی عزت ذلت سے متبدل