خطبات نور — Page 29
29 اور بیرونی انعامات پر غور کریں اور سوچیں تا ان کی جناب الہی سے محبت ترقی کرے۔پھر یہ بات بھی انسان کی فطرت میں ہے کہ جب انسان کسی سے محبت بڑھا لیتا ہے تو محبوب کی رضامندی کے لئے اپنا وقت اپنا مال اپنی عزت و آبرو غرض ہر عزیز سے عزیز چیز کو خرچ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کے احسانات اور انعامات کے مطالعہ کی عادت پڑ جاوے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہو گی اور روز بروز محبت بڑھے گی۔اور جب محبت بڑھ گئی تو وہ اپنی تمام خواہشوں کو رضاء الہی کے لئے متوجہ کر سکے گا اور اس رضاء الہی کو ہر چیز پر مقدم سمجھ لے گا۔دیکھو سب سے بڑا اور عظیم الشان احسان جو ہم پر کیا وہ یہ ہے کہ ہم کو پیدا کیا۔اگر کوئی دوست مدد دیتا ہے تو ہمارے پیدا ہونے اور موجود ہونے کے بعد۔اگر کوئی بھلی راہ بتلا سکتا ہے یا علم پڑھا سکتا ہے، مال دے سکتا ہے۔غرض کہ کسی قسم کی مدد دیتا ہے تو پہلے ہمارا اور اس چیز کا اور دینے والے کا وجود ہوتا ہے تب جا کر وہ مدد دینے والا مدد دینے کے قابل ہوتا ہے۔غرض تمام انعاموں کے حاصل کرنے سے پیشتر جو کسی غیر سے ہوں پہلا اور عظیم الشان احسان خدا تعالیٰ کا یہ ہے کہ اس نے ہم کو اور اس چیز کو جس سے ہمیں راحت پہنچی اور جس نے ہمیں راحت پہنچائی اس کو وجود عطا کیا۔پھر صحت و تندرستی عطا کی۔اگر ذرا بھی بیمار ہو جاوے تو تمام راحت رساں چیزیں بھی راحت رساں نہیں رہتیں۔دانت درد کرے تو اس کو نکالنا پسند ہو جاتا ہے۔آنکھ دکھ دینے کا باعث بن جاوے تو گا ہے اس کو نکالنا ہی پڑتا ہے۔برادران ! جب بیماری لاحق ہوتی ہے تب پتہ لگتا ہے کہ صحت کیسا انعام تھا۔اس صحت کے حاصل کرنے کو دیکھو کس قدر مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔طبیبوں کی خوشامد ، دعا والوں، تعویز ٹوٹکے والوں کی منتیں غرض قسم قسم کے لوگوں کے پاس جن سے کچھ بھی امید ہو سکتی ہے انسان جاتا ہے۔دواؤں کے خرید کرنے میں کتناہی روپیہ خرچ کرنا پڑے بلا دریغ خرچ کرتا ہے۔ایک آدمی مرنے لگتا ہے تو کہتے ہیں۔دو باتیں کرا دو خواہ کچھ ہی لے لو۔حالانکہ اس نے لاکھوں باتیں کیں۔چونکہ ان لوگوں کو جو احسانات کا مطالعہ نہیں کرتے خبر بھی نہ تھی۔غرض یہ سب انعامات جو ہم پر ہوتے ہیں ان میں سے اول اور بزرگ ترین انعام وجود کا ہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے پس اس سورۃ شریفہ میں اول اس کا ذکر فرمایا۔هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَّذْكُورًا (الدھر:(۲) انسان پر کچھ زمانہ ایسا بھی گذرا ہے یا نہیں کہ یہ موجود نہ تھا۔میری حالت کو دیکھو۔اس وقت میں کھڑا بول رہا ہوں مگر کیا کوئی بتلا سکتا ہے کہ سو اسی برس پیشتر میں کہاں تھا؟ اور میرا کیا مذکور تھا۔کوئی نہیں بتلا سکتا۔یہ جناب الہی کا فیضان ہے کہ ایک ذرا سی چیز سے