خطبات نور — Page 357
357 ظاہری و باطنی سلطنت کو شامل ہے۔یہ ملائکہ وہ تھے جن کے متعلق عناصر کی زمینی خدمات ہوتی ہیں اور یہ ثابت ہے اس آیت سے اسْتَكْبَرتَ أمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ (ص) جس سے معلوم ہوا کہ عالین اس حکم کے مکلف نہیں تھے۔صوفیوں نے لکھا ہے تمام عناصر کا مجموعہ انسان ہے۔ہر عصر پر ایک فرشتہ ہوتا ہے۔وہ اپنی اپنی متعلقہ شے کی ماہیت کو جانتے تھے۔وہ سمجھے کہ یہ تمام عناصر جب ملیں گے ضرور ان میں اختلاف ہو گا مگر انہیں معلوم نہ تھا۔خدا انسان کو مجموعہ کمالات بنانا چاہتا ہے۔واقعی ہماری غذا بھی عجیب ہے۔کچھ اس میں پتھر (نمک) ہے، کچھ نباتات کچھ حیوانات۔پس وہ بول اٹھے کہ وہ فساد کرے گا اور خونریزی مگر ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔تیری ذات کو اس بات سے منزہ سمجھتے ہیں کہ تیرا کوئی کام حکمت اور نیک نتیجہ سے خالی ہو۔فرشتے جو اعتراض کر رہے تھے دراصل وہی ان پر وارد ہو تا تھا کہ وہ بنی آدم کی پیدائش اور اس کی نسل کی نسبت چاہتے تھے کہ نہ ہو۔گویا سفک دماء کرتے تھے اور یہ بھی فساد تھا۔ایک دفعہ کسی شخص نے مجھے کہا۔بہت علماء تمہارے مرزا صاحب کو خلیفہ اللہ نہیں مانتے۔میں نے کہا یہ تعجب نہیں۔خلفاء پر فرشتوں نے اعتراض کئے ہیں۔یہ علماء فرشتوں سے بڑھ کر نہیں مگر فرشتوں اور دوسرے لوگوں کے اعتراض میں فرق تھا۔فرشتوں نے نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ اور سُبْحْنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا کہہ کر اپنے اعتراض واپس لے لئے۔حضرت صاحب کی خدمت میں کسی نے خط لکھا کہ اب تو خدا بھی آئے تو میں یہ بات نہ مانوں۔فرمایا دیکھو یہ کیسے متکبر اور بے پرواہ لوگ ہیں۔شعیب نبی کو جب لوگوں نے کہا اَوْلَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا (الاعراف:۸۹) تو انہوں نے جواب دیا۔وَمَا يَكُونُ لَنَا اَنْ نَّعُوْدَفِيْهَا إِلَّا انْ يَّشَاءَ اللهُ رَبُّنَا (الاعراف) یعنی ہم تو کبھی تمہارے مذہب میں نہ آئیں گے۔پھر فرمایا ہاں اگر خدا چاہے تو کیونکہ اس کا ارادہ زبردست ہے۔یہ پاس ادب ہے جو آج کل کے گستاخوں سے جاچکا ہے۔دیکھو ایک ناممکن بات پر پیغمبر نے خدا کی عظمت اور جبروت و جلال کا ادب کیا ہے تو افسوس اس انسان پر جو بلا سوچے سمجھے کہتا ہے کہ یہ کام یوں ہو جائے گا اور میں یوں نہ کروں گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی بادل آتا تو مضطربانہ اندر باہر پھرنے لگتے۔حضرت عائشہ نے عرض کی۔عرب کا ملک تو ابر دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا عائشہ کیا معلوم کہ اس بادل میں کوئی خدا کا عذاب ہو۔بدر کی جنگ میں باوجود وعدہ نصرت الہی کے آپ نے ایک جھونپڑی ڈال لی اور اس قدر عاجزی سے دعا کی کہ آپ کی چادر گر گئی۔اس پر ابو بکر بول اٹھے کہ بس کیجئے۔خدا کا وعدہ ہے کہ میں فتح دوں گا۔اس پر صوفیوں نے لکھا ہے کہ ابو بکر کو خدا کی نسبت اتنا علم نہ تھا جتن نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم