خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 356 of 703

خطبات نور — Page 356

ار تمبر ۱۹۰۸ء 356 خطبہ جمعہ حضرت امیرالمومنین نے وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ پر خطبہ پڑھا۔پہلے آپ نے پچھلے رکوعوں سے ربط کے سلسلہ میں فرمایا۔سورۃ الحمد میں دو گروہوں کا ذکر ہے۔منعم علیم ، مغضوب علیہم۔منعم علیہم کو متقین فرمایا اور بتایا کہ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔نماز پڑھتے اپنے مال و جان کو خدا کی راہ میں خرچ کرتے اور یقین رکھتے ہیں کہ وحی کا سلسلہ ابتدائے خلق آدم سے تاقیامت جاری ہے۔یہ لوگ ہدایت کے گھوڑوں پر سوار ہیں اور مظفر و منصور ہوں گے۔دوم وہ لوگ ہیں جن کے لئے سنانا نہ سنانا برا بر ہے اور جو شرارت سے انکار کرتے ہیں۔علیم ہیں، ایسے ہی منافق۔سوم وہ جو غلطی سے گمراہ ہیں یا بد عہدیوں کی وجہ سے ، مغضوب یہ ضال ہیں۔اب ایک منعم علیہ کی مثال دے کر سمجھاتا ہے۔اللہ نے فرشتوں سے مشورہ نہیں کیا بلکہ انہیں اطلاع دی ( یہ اطلاع دینا خدا کا خاص فضل ہے جو بعض خواص پر ہوتا ہے) کہ میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔خلیفہ کہتے ہیں گذشتہ قوم کے جانشین کو یا جو اپنے پیچھے کسی کو چھوڑے۔بادشاہ کو۔(گویا یہ لفظ)