خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 703

خطبات نور — Page 325

ار اپریل ۱۹۰۸ء 325 خطبه جمعه تشہد ، تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی۔قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ - لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ - وَلَا اَنْتُمْ عَبدُونَ مَا أَعْبُدُ وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ - وَلَا أَنْتُمْ عَبِدُونَ مَا أَعْبُدُ لَكُمْ دِيْنُكُمْ وَلِيَ دِينِ - (الكافرون: ۲ تا ۷ ) اور پھر فرمایا:۔نماز کے اختتام پر سلام پھیر کر معاہی حکم ہے کہ انسان کم از کم تین بار استغفار پڑھے۔اور حدیث میں تو یوں بھی آیا ہے کہ نماز کے بعد ۳۳ بار سبحان اللہ ۳۳۰ بار الحمد للہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھے۔یہ بھی نماز کے بعد کے وظائف میں سے ایک ضروری وظیفہ ہے۔مگر اس کا ہم انشاء اللہ توفیق ہوئی تو آئندہ کبھی اس کے موقع پر بیان کریں گے۔سلام پھیرتے ہی معا تین بار اَسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ اللهَ اسْتَغْفِرُ الله (ترمذی کتاب الدعوات) کہنے کا جو حکم ہے اس میں بھید کیا ہے؟ اور اس کی وجہ کیا؟ اصل بات یہ ہے کہ انسان بڑا کمزور ناتواں اور سست ہے۔علم حقیقی سے بہت دور ہے۔آہستگی سے ترقی کر