خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 326 of 703

خطبات نور — Page 326

326 سکتا ہے۔ہم تم تو چیز ہی کیا ہیں؟ اس عظیم الشان انسان علیہ الف الف صلوۃ والسلام کی بھی یہ دعا تھی رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا (طه) - تو جب خاتم الانبیاء افضل البشر کو بھی علمی ترقی کی ضرورت ہے جو اتقی النَّاسِ - اَخْشَى النَّاسِ اَعْلَمُ النَّاسِ ہیں اور ان کے متعلق الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ (الرحمن:۳۲) وارد ہو جانے کے باوجود بھی ان کو ترقی علم کی ضرورت ہے تو ماوشما حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں کہ ہم علمی ترقی نہ کریں۔اگر میں کہہ دوں کہ مجھے کتابوں کا بہت شوق ہے اور میرے پاس اللہ کے فضل سے کتابوں کا ذخیرہ بھی تم سب سے بڑھ کر موجود ہے اور پھر یہ بھی اللہ کا خاص فضل ہے کہ میں نے ان سب کو پڑھا ہے اور خوب پڑھا ہے اور مجھے ایک طرح کا حق بھی حاصل ہے کہ ایسا کہہ سکوں۔مگر بائیں (وجہ) میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھے علم کی ضرورت نہیں بلکہ مجھے بھی ترقی علم کی ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔علم سے میری مراد کوئی دنیوی علم اور اہل۔ایل۔بی یا ایل۔ایل۔ڈی کی ڈگریوں کا حصول نہیں ہے۔لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللهِ۔بلکہ ایسا تو کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا اور نہ ہی ایسی میری کبھی اپنی ذات یا اپنی اولاد کے واسطے خواہش ہوئی ہے۔عام طور پر لوگوں کے دلوں میں آج کل علم سے بھی ظاہری علم مراد لیا گیا ہے اور ہزارہا انسان ایسے موجود ہیں کہ جن کو دن رات یہی تڑپ اور لگن لگی ہوئی ہے کہ کسی طرح وہ بی۔اے یا ایم۔اے یا ایل۔ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کر لیں۔ان لوگوں نے اصل میں ان علوم کی دھن ہی چھوڑ دی ہے جن پر بچے طور پر علم کا لفظ صادق آ سکتا ہے۔پس ہماری مراد ترقی علوم سے خدا کی رضامندی کے علوم اور اخلاق فاضلہ سیکھنے کے علوم وہ علوم جن سے خدا کی عظمت اور جبروت اور قدرت کا علم ہو اور اس کے صفات اس کے حسن و احسان کا علم ؟ جاوے۔غرض وہ کل علوم جن سے تعظیم لامر اللہ اور شفقت علی خلق اللہ کا علم آ جاوے‘ مراد ہیں۔انسان چونکہ کمزور ہوتا ہے اور اس کا علم اپنے کمال تک نہیں پہنچا ہو تا اور بعض اوقات اپنی کمزوریوں اور سستیوں کی وجہ سے نماز کو کبھی وقت سے بے وقت کبھی بے توجہی سے پڑھتا ہے اور کبھی نمازوں میں اس کا خیال کہیں کا کہیں چلا جاتا اور پورا حضور قلب اور خضوع جو نماز کے ضروری ارکان ہیں ان کے ادا کرنے میں سستی ہو جاتی ہے یا نماز تدبر سے نہیں پڑھی جاتی یا کبھی اصلی لذت اور سرور سے محروم رہ جاتا ہے اور باریک در باریک وجوہ کے باعث نماز میں کوئی نہ کوئی کمی یا نقص رہ جاتا ہے۔اس واسطے حکم ہے کہ نماز کا سلام پھیرنے کے ساتھ ہی معاً استغفار پڑھ کر اپنی کمزوریوں اور نماز میں اگر کوئی نقص رہ گیا ہے تو اس کی تلافی خدا سے چاہے اور عرض کرے کہ یا الہی! اگر میری نماز کسی بار یک دربار یک کمی یا نقص کی وجہ سے قابل قبول نہیں تو میری کمزوریوں پر پردہ ڈال کر بخشش فرما اور