خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 703

خطبات نور — Page 22

22 اور دھیان کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بجز اسلام کے ان کو اللہ تعالیٰ کے اسماء اور صفات پر ایمان نہیں رہا۔کوئی اسم اعلیٰ طور پر ایسا نہیں جس کے معنی مسلمان اعلیٰ طور پر نہیں کرتے۔کسی نے کیا چھوٹا اور سچا فقرہ کہا ہے۔"مسلمان خدا کے سامنے شرمندہ ہونے کے قابل نہیں"۔لیکن اس نعمت کی قدر کیا ہو سکتی ہے؟ کیا تم لوگوں میں خدا کے سوا دوسرے کی پرستش نہیں ہوتی ؟ کیا غفلت نہیں رہی؟ کیا برادری اور اخوت کا وہ بے نظیر اور قابل قدر مسئلہ جو مخلوقات کو سکھلایا گیا تھا اور یہ بتلایا گیا تھا کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمُ (الحجرات :) یعنی تم میں معزز اور زیادہ مکرم وہ ہے جو زیادہ تر متقی ہے۔جس قدر نیکیاں اور اعمال صالح کسی میں زیادہ تر ہیں وہی زیادہ معزز و مکرم ہے۔کیا بے جایخی اور انانیت پیدا نہیں ہو رہی؟ پھر بتلاؤ کہ اس نعمت کی قدر کی تو کیا کی؟ یہ اخوت اور برادری کا واجب الاحترام مسئلہ اسلام کے دیکھا دیکھی اب اور قوموں نے بھی لے لیا۔پہلے ہندو وغیرہ قومیں کسی دوسرے مذہب و ملت کے پیرو کو اپنے مذہب میں ملانا عیب سمجھتے تھے اور پر ہیز کرتے تھے مگر اب شدھ کرتے اور ملاتے ہیں۔گو کامل اخوت اور بچے طور پر نہیں۔مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غور کرو کہ حضور نے اپنی عملی زندگی سے کیا ثبوت دیا کہ زید جیسے کے نکاح میں شریف بیبیاں آئیں۔اسلام یا مقدس اسلام نے قوموں کی تمیز کو اٹھا دیا۔جیسے وہ دنیا میں توحید کو زندہ اور قائم کرنا چاہتا تھا اور چاہتا ہے اسی طرح ہر بات میں اس نے وحدت کی روح پھونکی اور تقویٰ پر ہی امتیاز رکھا۔قومی تفریق جو نفرت اور حقارت پیدا کر کے شفقت علی خلق اللہ کے اصول کی دشمن ہو سکتی تھی، اسے دور کر دیا۔ہمیشہ کا منکر، خدا رسول کا منکر، جب اسلام لاوے تو شیخ کہلاوے۔یہ سعادت کا تمغہ یہ سیادت کا نشان جو اسلام نے قائم کیا تھا، صرف تقویٰ تھا۔ا اب بتلاؤ ایسے انعام اور ایسے فضل کے نازل ہونے کے بعد اب کیا حالت موجود ہے۔کیا وہی اتحاد برادری ہے؟ کیا اسماء الہی پر ویسا ہی یقین کامل ہے؟ وہ کتاب جس نے غافل و بد مست قوم کو ہوشیار کر کے دکھا دیا تھا اور جس نے عرب جیسی اکھڑ قوم کو ہمدردی اور اخوت کا ایک پاک نمونہ دنیا میں بنا کر دکھا دیا کیا اس کی ایسی قدر اور عظمت ہے جو اس کی اتباع اور عمل درآمد کا نام ہے؟ کیا مسلمان کہلانے والے کتاب اللہ رسول اللہ کی ایسی ہی عزت کرنے والے چست و چالاک ہیں جیسے صحابہ تھے ؟ مجھے اندیشہ ہے کہ اگر سب باتوں کا جواب دیا جائے تو دلوں کو نہ ہلا دے۔میں دیکھتا ہوں عقائد کا حال خدا ہی کو معلوم ہے۔دل کی باتیں تو وہی جانتا ہے جو عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ہے۔مگر یہ بات تو مانی ہوئی ہے کہ انسان کے دل کا جوش قومی پر ضرور جلوہ گری کرتا ہے۔کون ہے جو یہ جانتا ہو کہ آگ جلاتی ہے اور