خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 23 of 703

خطبات نور — Page 23

23 پھر اس میں ہاتھ ڈال دے۔کون گڑھے میں عمد ا گر سکتا ہے؟ روٹی کو بھوک کا علاج جانتے ہو اور پیاس کا علاج پانی جانتے ہو تو بھوک کے وقت روٹی کھاتے اور پیاس کے وقت پانی پیتے ہو۔پھر جب کوئی انسان یہ اصول مانتا ہے کہ خدا تعالیٰ علیم و خبیر ، سمیع و بصیر ہے تو پھر قیاس کرے کہ ان اسماء حسنیٰ کو مان کر بھی بد معاشیوں اور بدکاریوں کے ارتکاب میں کیوں دلیری کرتا ہے۔ہندو دہریہ ، سکھ ، آریہ ، عیسائی وغیرہ قسم قسم کی مخلوق موجود ہے اور ان کے اخلاق ظاہری اور افعال و اعمال دیکھ لو اور پھر اپنے افعال و اعمال کا معائنہ کرو۔تم میں تو خاص نعمت اتری تھی اور پھر اس کی تکمیل ہوئی تھی۔اب اس نعمت کے لینے کے بعد اور قوموں میں اور تم میں کیا امتیاز ہوا؟ صحابہ کرام میں اخوت کا مسئلہ ایسا تھا کہ وہ اس امر کو تکملہ ایمان سمجھتے تھے کہ جب تک اپنے بھائی مسلمان کے لئے وہی نہ چاہیں جو خاص اپنی ذات کے لئے چاہتے تھے۔دوسرے کی عزت و آبرو، دوسرے کے آرام و چین کے لئے ایسی ہی کوشش کرو جیسی اپنے لئے کرتے ہو۔مگر جب اپنے آپ ہی کو غفلت میں ڈال رکھا ہے تو دوسرے کی بہتری کی کیا امید کرتے نفاق ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ نعمتیں ملیں جو اتفاق میں ہیں۔جہالت میں پڑے ہیں اور چاہتے ہیں کہ علم کی عزت و آبرد ملے۔غفلت میں سرشار ہیں اور ہوشیاری اور لذت کے خواہاں۔علم ہاں صحیح علم کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہتے مگر اجر وہ لینا چاہتے ہیں جو عالمین کو ملتے ہیں۔مکہ کے کفار کہتے تھے کہ ہم پر رسولوں والی بات کیوں نازل نہیں ہوتی۔بہت سے تم میں سے ہیں جو چاہتے ہیں ہم فلم کیوں نہیں بنتے۔ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں۔ہم کیوں آسودہ حال نہیں ہوتے۔مگر یہ تو بتلاؤ کہ کتاب اللہ کے مطابق عمل درآمد کرنے میں تم نے کس قدر محنت اٹھائی ہے۔انصاف تو یہی ہے کہ جس قدر روپیہ اور عمر کو رسوں کے پورا کرنے میں صرف کیا ہے کیا قرآن کریم کے مطالب پر اطلاع پانے اور اس کو دستور العمل بنانے میں اس سے آدھا بھی کیا ہے؟ خدا کے حضور بخیلی نہیں۔اس کے اسماء میں بخل نام کو نہیں۔پھر یہ محرومی کیوں؟ سچی بات یہ ہے مَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَ لَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (ال عمران :) اللہ تعالیٰ نے تو کسی کی جان پر ظلم نہیں کیا مگر بات یہ ہے کہ لوگ خود ہی اپنی جان پر ظلم کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قدر کرو۔اس نے خاتم الانبیاء بھیجا۔کتاب بھی کامل بھیجی۔کتاب کے سمجھانے کا خود وعدہ کیا اور ایسے لوگوں کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا جو آ آکر خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔اس زمانے ہی کو دیکھو کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ (النور (۵۲) کا وعدہ کیا سچا اور صحیح ثابت ہوا۔اس کا رحم اس کا فضل اور انعام کس کس طرح دستگیری کرتا ہے۔مگر انسان کو بھی لازم ہے کہ خود بھی قدم