خطبات نور — Page 21
21 پاخانہ سے کیسی سبز اور نرم دل خوشکن کو نپل نکالتا ہے۔انار کے دانے کس لطافت اور خوبی سے لگاتا ہے۔ادھر دیکھو۔ادھر دیکھو۔آگے پیچھے دائیں بائیں جدھر نظر اٹھاؤ گے اس کے حسن کا ہی نظارہ نظر آئے گا۔اور یہ بالکل سچی بات ہوئی يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (التغابن:۲)۔ساری دنیا میں جس قدر مذاہب باطلہ ہیں ان میں دیکھو گے تو معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے کسی اسم یا صفت کا انکار کیا ہے اور اسی انکار نے ان کو بطلان پر پہنچا دیا ہے۔ایک بت پرست اگر خدا تعالیٰ کو علیم خبیر سمیع، بصیر، قادر جانتا ہے تو کیوں پھر شجر ہوا سورج چاند اور ارزاں ترین چیزوں کے سامنے سجدہ کرتا اور کیوں اس کی استتی کرتا ہے۔اور کوئی جواب نہیں ملتا تو یہی عذر تراش لیا کہ ہماری عبادت صرف اسی لئے ہے کہ یہ اصنام و معبود ہم کو خدا تعالیٰ کے حضور پہنچا دیں اور مقرب بارگاہ الہی بنا دیں۔اصل یہی ہے کہ وہ اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر غریب و گنہگار کی آواز سنتا ہے اور ہر ایک دور شدہ کو نزدیک کرنا چاہتا ہے۔اونچی آواز سے پکارو یا دھیمی آواز سے وہ سمیع ہے۔اگر ایسا مانتے تو کبھی بھی وہ عاجز اور ناکارہ مخلوق کے آگے ہاں ان اشیاء کے آگے جو انسان کے لئے بطور خادم ہیں، سر نہ جھکاتے اور یوں اپنے ایمان کو نہ ڈبوتے۔عیسائی مذہب کو اگر دیکھیں تو یہ بطلان پرستی کیوں ان میں پیدا ہوئی؟ صرف اس لئے کہ خدا تعالیٰ کی صفات اور اسماء کا انکار کیا۔ایک طرف زبان سے خدا تعالیٰ کو قدوس اور رحیم اور عادل خدا پکار رہے ہیں مگر اپنے معتقدات اور ایمان سے بتلاتے ہیں کہ جس کو خدا مانا ہے وہ ساری برائیوں اور بدیوں کا مورد ہے۔خدا کو عادل قرار دیتے ہیں مگر گنہگاروں کے بدلے ایک بے گناہ کو سزا دے کر بھی اس کے عدل کو قائم رکھ سکتے ہیں۔آریہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو سرب شکتی مان تو مانتا ہے لیکن خَالِق كُلَّ شَئی ہونے کی اسے مقدرت نہیں۔ایک ایک ذرہ کو علیحدہ سمجھتے ہیں اور روحوں کو مخلوق نہیں مان سکتے۔ان کے خواص گن کرم سبھاؤ سب کے سب انادی اور خدا تعالیٰ کے ہمتا اور شریک سمجھتے ہیں۔خدا تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہیں مان سکتے کہ وہ بڑے سے بڑے بھگت اور پریمی کو بھی ابدی نجات دے بلکہ ابدی نجات کا دینا گویا خدا تعالیٰ کو خدائی ہی سے دست بردار کرنا چاہتے ہیں۔مَعَاذَ اللَّهِ مِنْهَا۔براہمو لوگوں کو دیکھو تو خدا تعالیٰ کی بڑی تعریفیں کریں گے مگر خدا تعالیٰ کی اس صفت سے ان کو قطعاً انکار ہے، جس سے وہ ہدایت نامے دنیا میں بھیجتا اور انسان کو غلطیوں سے بچانے کے لئے رہنمائی کرتا ہے اور نہیں مانتے کہ يُرْسِلُ الرَّسُولَ بھی خدا تعالیٰ کی کوئی صفت ہے۔الغرض ہر ایک مذہب پر اگر غور