خطبات نور — Page 256
256 کرے۔بیاہ سے غرض صرف تقویٰ ہو۔ہر ایک چیز کو دیکھ لینا چاہئے کہ اس کا فائدہ کیا ہو گا؟ اخلاق پر اس کا کیا اثر ہو گا؟ خدا اس سے راضی ہو گا کہ نہیں ہو گا۔مخلوق کو کوئی نفع پہنچے گا کہ نہیں پہنچے گا يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب (۷۲۴۷) نکاحوں کے معاملات میں بعض لوگ پہلے بڑے لمبے چوڑے وعدے دیا کرتے ہیں کہ ہم ایسا کریں گے اور تم کو اس طور پر خوش کرنے کی کوشش کریں گے اور یہ کریں گے وہ کریں گے مگر جب یہ نیا معاملہ پیش آجاتا ہے تو پھر بہت مشکلات پیش آجاتی ہیں اور بد عہدی کرنی پڑتی ہے۔اسی والے اللہ کریم نے فرمایا ہے کہ پہلے ہر ایک بات کو اچھی طرح سے سوچ لو اور بڑا سوچ سمجھ کر نکاح کا معاملہ کیا کرو اور اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں تبدیلی اور اصلاح کرے گا۔اور جو شخص اللہ کی اطاعت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا کہا مانتا ہے عمل میں وہی اچھی طرح سے بامراد اور کامیاب ہوتا ہے۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (النساء:۲) نکاح کے اصل اغراض یہ ہیں کہ انسان کو ایک قسم کا آرام حاصل ہو اور بہت سی حاجات رفع ہوں اور صالح اولاد حاصل ہو۔جیسے دعا سکھائی رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةٌ طَيِّبَةً (ال عمران:۳۹) ایک دفعہ الحکم کے ایڈیٹر شیخ یعقوب علی نے اولاد کے حصول کے واسطے بڑے بڑے اشتہار مجھے دکھائے اور کہا کہ آپ کے اولاد نہیں ہوتی۔دیکھو یہ کتنا بڑا دعویٰ کرتا ہے۔آپ ضرور اس اشتہار پر عمل کریں۔میں نے اسے یہی جواب دیا تھا کہ ایسی اولاد کی مجھے ضرورت ہی نہیں۔نفس اولاد چیز کیا ہے؟ مجھے تو سعادت مند روح کی ضرورت ہے۔اور رشد اور سعادت کا پتہ غالباً اٹھارہ برس کی عمر تک لگ ہی سکتا ہے۔اگر اس طرح کی اولاد کا کوئی ٹھیکہ اٹھاوے تو ہم اس کے اشتہار پر عمل کر سکتے ہیں۔تب اس نے جواب میں کہا کہ ایسا تو وہ نہیں کر سکتے۔پھر میں نے جواب دیا کہ مجھے دس روپیہ والی اولاد کی ضرورت ہی نہیں۔ایسی اولاد کا فائدہ ہی کیا ہے۔نہ ہو تو بہتر ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہت نکاح کرو تاکہ میری امت بڑھے۔یہ تو نہیں کہا کہ انسان بہت سارے ہوں۔یہی کہا ہے کہ میری امت بہت ہو۔غرض مومن کو چاہئے کہ اپنی بیوی سے تعلقات میں اور اپنے اقوال اور افعال میں بھی تقوی کو مد نظر رکھے اور ہر فعل میں خدا کی رضامندی کا خواہاں رہے۔خدا کرے کہ تمہارے تقویٰ میں ترقی ہو۔آمین۔(الحکم جلد نمبر ۳۴----۳۰۰ ستمبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۵-۶)