خطبات نور — Page 255
255 الْمُهْتَدُونَ (البقره: ۱۵۲ ۱۵۸)- انسان کا نکاح اصل میں ایک نیا رشتہ ہوتا ہے۔ایک اجنبی عورت سے تعلقات شروع ہو جاتے ہیں۔بعض ملکوں میں تو عورت کو مرد کا یا مرد کو عورت کا پتہ تک بھی نہیں ہوتا اور ان کا آپس میں نکاح شروع کر دیتے ہیں۔عور تیں حقیقت میں فطرتنا ناقص العقل اور ناقص الدین ہوتی ہیں اور پھر بد قسمتی سے ہمارے ملک میں تو عورتیں کچھ پڑھی لکھی بھی کم ہوتی ہیں۔لوگوں کی غفلت سستی اور کاہلی کے سبب سے بہت ہی کم عورتیں تعلیم یافتہ ملیں گی۔اور پھر بے پرواہی اور غفلت کے سبب سے عورتوں کی تعلیم میں بہت کم توجہ کی جاتی ہے اور ایسے ضروری کام میں بہت بے توجہی سے کام لیا جاتا ہے۔مرد فطر تا چاہتا ہے کہ میری بیوی میرے رنگ میں رنگین ہو جاوے اور ہر طرح سے میرے مذاق کے مطابق بن جاوے۔اس لئے بعض وقت خفا ہو کر اور غصہ میں آکر طعن اور تشفیع دیتا ہے۔اتنا نہیں سوچتا کہ مجھے تو دنیا کے سرد و گرم کی واقفیت بڑے بڑے تجربہ کاروں کی صحبت کے اثر اور عمدہ عمدہ مجلسوں کی اعلیٰ اعلیٰ باتوں کے باعث ہے اور اس بیچاری کو اتنی خبر ہی کہاں ہے اور ایسا موقع ہی کب میسر آسکتا ہے۔اور پھر عورت مرد کے تعلق کی آپس میں ایسی خطرناک ذمہ داری ہوتی ہے کہ بعض اوقات معمولی معمولی باتوں پر حسن و جمال کا خیال بھی نہیں رہتا اور عورتیں کسی نہ کسی نبج میں ناپسند ہو جاتی ہیں اور ان کے کسی فعل سے کراہت پیدا ہوتے ہوتے کچھ اور کا اور ہی بن جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے و عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (النساء:۲۰)۔پس عزیزو! تم دیکھو اگر تم کو اپنی بیوی کی کوئی بات نا پسند ہو تو تم اس کے ساتھ پھر بھی عمدہ سلوک ہی کرو۔اللہ فرماتا ہے ہم اس میں عمدگی اور خوبی ڈال دیں گے۔ہو سکتا ہے کہ ایک بات حقیقت میں عمدہ ہو اور تم کو بری معلوم ہوتی ہو۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ مجھ پر حملہ کرتا ہے۔میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں کسی کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔بلکہ مجھے شروع سے ایک دردمند دل دیا گیا ہے۔پس چاہئے کہ اپنے اقوال اور افعال کا بہت مطالعہ کرو۔اب میں وہ آیات پڑھتا ہوں جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اکثر اوقات نکاحوں کے وقت پڑھا کرتے تھے۔يُأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَتِهِ (ال عمران :(۱۳) مومن کو چاہئے کہ تقویٰ کے لئے بیاہ