خطبات نور — Page 211
211 ضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک بڑا عظیم الشان مناظرہ واقع ہوا تھا جس کی نوبت بالآخر مباہلہ تک پہنچی تھی مگر نصاریٰ نجران اس مباہلہ سے ایسے خوف زدہ ہو گئے کہ جو ان میں بشپ اور لاٹ پادری مسمی عاقب و سید وغیرہ موجود تھے انہوں نے اپنے ہمراہیوں سے کہا جن میں قریب ساٹھ سواروں کے بھی تھے کہ یا معشر النصاری! یہ تو وہی بچے نبی معلوم ہوتے ہیں جن کی نبوت کی خبر عہد عتیق اور عہد جدید میں موجود ہے اور جو دلائل انہوں نے پیش کئے ہیں وہ منقوض نہیں ہو سکتے۔اندریں صورت اگر ہم مباہلہ کریں گے تو بالضرور ہم ہلاک اور تباہ ہو جاویں گے۔اگر تم کو اپنے ہی دین کی محبت ہے تو لوٹ چلو اور ان سے کچھ تعرض مت کرو اور نہ ان سے لڑو۔یہ دونوں پادری بڑے ذی رائے تھے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل بیت مذکورین سے فرما رہے تھے کہ جب میں دعا کروں تو تم آمین کہنا۔اس وقت ان کے بشپ لاٹ پادری نے اپنے ہمراہیوں سے یہ بھی کہا کہ میں ان لوگوں کے چہرے ایسے دیکھتا ہوں کہ اگر یہ لوگ پنج تن کسی پہاڑ کا اپنی جگہ سے ٹلا دینا بھی اللہ تعالیٰ سے چاہیں گے تو وہ پہاڑ بھی ٹل جاوے گا۔فَلَا تَبَا هَلُوا فَتَهْلِكُوا۔غرضیکہ ان نصاریٰ نجران نے پھر تو نہ مباہلہ کرنا چاہا اور نہ لڑنا چاہا بلکہ بالآخر جزیہ دینا قبول کیا۔سال بھر میں دو مرتبہ یعنی ماہ صفر میں ایک ہزار حلہ اور ماہ رجب میں ایک ہزار حلہ اور خالص لوہے کی عمدہ تھیں ذرہ۔اگر چہ اس قوم نصاریٰ نجران سے مباہلہ واقع نہیں ہوا مگر یہ واقعہ جو اس آیت اور احادیث میں مذکور ہے آپ کی حقیت نبوت کے لئے مفسرین ایک بڑی دلیل مثبت لکھتے ہیں۔روایات میں یہ بھی واقعہ ہوا ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اہل نجران نصابی سے عذاب بہت قریب ہو گیا تھا۔اگر وہ مباہلہ کرتے تو ان پر عذاب نازل ہو جاتا۔وَلَمَّا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا (بخاری کتاب مناقب انصار)۔اور یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود جو حضرات عیسائیوں کو مدت دراز سے اسلام کی طرف دعوت کر رہے ہیں لیکن کوئی عیسائی صاحب خواہ بشپ ہو یا لاٹ پادری اس میدان لق و دق میں قدم رکھنا نہیں چاہتے کیونکہ جانتے ہیں کہ ہم اہل اسلام کے مقابلہ مباہلہ میں ہرگز ہرگز کامیاب نہ ہو دیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے مذہب کی پردہ دری ہو جاوے گی۔مگر اس امتناع کے لئے ایک عذر بار دیہ بنالیا ہے کہ ہمارے مذہب میں مباہلہ جائز نہیں ہے۔ہاں یہ فیصلہ الہی ہے اور وہ صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے اور خود آپ بڑا زبردست عزیز و حکیم اور علیم بالمفسدین ہے۔وہ تو فیصلہ صادق ہی کے حق میں کرے گانہ کاذب کے حق میں۔جیسا کہ اس نے ان آیات مباہلہ کے آگے ان صفات کا ذکر اسی لئے فرمایا ہے۔