خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 210 of 703

خطبات نور — Page 210

210 تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو امر حق پر اس قدر یقین کامل تھا کہ آپ مباہلہ کے لئے مستعد ہو گئے۔جیسا کہ اس زمانہ آخری میں بھی مسیح موعود کے مخالفین پیچھے پڑے اور تکفیر نامے لکھے اور شور قیامت برپا کر کر ان کے روبرو احادیث موضوعہ اور روایات کاذبہ اپنے مذہب کی تائید میں پیش کی گئی ہیں۔مگر نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ذرہ بھر شک پیدا ہوا اور نہ مسیح موعود کو کسی طرح کا شک وشبہ اپنے دعاوی میں پیدا ہوا۔اسی لئے مسیح موعود نے بھی یہ آیت مباہلہ حسب درخواست مخالفین کے پیش کر دی ہے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایک عالم پر اس ا الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ کی حقیقت منکشف ہو گئی تھی اور اس زمانہ آخری میں بھی حقیقت ان دعاوی مسیح موعود کی جو مضمون آیات ما سبق کی موید اور مبین ہیں، ایک عالم پر واضح ہوتی چلی جاتی ہے لہذا یہ آیت بسبب وقوع اپنے مضمون کے ایک نشان نبوت کا بھی ہو گئی اَلْحَمْدُ لِلَّهِ۔اور چونکہ تفسیر کبیر وغیرہ میں اس آیت کی ترکیب میں یہ بھی لکھا ہے وَقَالَ اخَرُونَ الْحَقُّ رَفَعَ بِأَضْمَارِ فِعْلٍ أَيْ جَاءَ كَ الْحَقُّ اندرین صورت یہ آیت ایک صریح پیشین گوئی ہو گئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی واقع ہوئی اور اس زمانہ آخری میں بھی بڑے زور شور سے واقع ہو رہی ہے۔اس لئے یہ آیت ہمہ وجوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات کے لئے ایک بڑا نشان ہے۔اب بعد اتمام حجت کے جو دلائل علمیہ سے بیان فرمائے گئے اور دلائل علمیہ کا بیان انتہا درجہ کو پہنچ گیا تب بھی مخالفین نے تسلیم نہ کیا تو فرمایا جاتا ہے کہ جو شخص اس کے بعد عیسی کے بارہ میں کٹ حجتی کرتا رہے تو آخری فیصلہ یہ ہے کہ ان سے کہہ دو کہ آجاؤ۔ہم اپنے بیٹوں کو بلاویں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو شریک کریں اور تم اپنے نفسوں کو۔پھر ہم سب مل کر تضرع اور زاری کے ساتھ دعا کریں۔پس جھوٹوں پر خدا کی لعنت ڈالیں۔فائدہ: یہ قصہ مباہلہ کا نصاریٰ نجران کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو پیش آیا تھا جن میں ساٹھ سواروں کا وفد مع لاٹ پادری سید اور عاقب کے جو بڑے ذی رائے تھے موجود تھا۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے مناظرہ فرما کر بخوبی ان پر اتمام حجت فرمایا تب بھی انہوں نے امر حق اور صداقت ثابت شدہ کو تسلیم نہ کیا۔تب بالآخر مجبور ہو کر مباہلہ کی آیت پیش کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تیار ہوئے اور اپنے اہل بیت یعنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہرا اور ہر دونوں بیٹوں حسنین کو اور حضرت علی داماد کو لے کر مباہلہ کے لئے موجود ہوئے کیونکہ نصاریٰ نجران نے حضرت کا بہت پیچھا کیا تھا۔آغاز سورۃ آل عمران کا قریب اسی آیتوں کے اسی مناظرہ اور مباہلہ کے بیان میں نازل ہوا ہے۔یہ مناظرہ