خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 212 of 703

خطبات نور — Page 212

212 سوال : اگر کہا جاوے کہ بعض کفار نے تو خود چاہا تھا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دعاوی میں حق پر ہیں تو ہم مکذبین پر یا اللہ ! عذاب نازل فرما تب بھی کوئی عذاب نازل نہیں ہوا تو پھر مبالہ پر کیونکر عذاب نازل ہوتا۔كَما قال الله تعالى حكاتِنَا عَنْهُمْ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرُ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاء أو الينا بِعَذَابٍ أَلِيم وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (انفال:۳۴۲۳)۔پس ان دونوں آیتوں میں توفیق کیا ہو گی؟ الجواب: آیات مباہلہ اور ان آیات مندرجہ میں کچھ بھی منافات نہیں ہے کیونکہ ان آیات میں ایک خاص عذاب کے نزول کے لئے دعا کی گئی تھی یعنی آسمان سے مثل بارش کے پتھروں کا برسنا جس سے عام ہلاکت بلکہ استیصال عام متصور ہے۔دوسرا عذاب اس عذاب سے بھی زیادہ تر مولم مانگا تھا۔سو قدیم سے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ قبل قیامت ایسے عذاب دنیا میں فوری نازل فرما دیوے کیونکہ ایسے عذابوں کے انزال میں خواہ کفار کی درخواست سے ہو دیں یا کسی فرضا مامور من اللہ کی دعا سے ہو دیں ایمان بالغیب کی حکمت باقی نہیں رہ سکتی اور مع ہذا ایسے عذاب کے انزال سے اجبار اور اکراہ اور الجا لازم آتا ہے جو دین اسلام میں ہرگز موجود نہیں ہے لا اكراة في الدِّينِ (البقرة: ۳۵۷)۔ہاں کسی کاذب پر لعنت کا پڑتا جس سے ذلت یا رسوائی ہو اور ایمان بالغیب کی حکمت تلف نہ ہو وے اور اکراہ والجا بھی لازم نہ آوے ہوا کرتا ہے۔چنانچہ مخالفین انبیاء پر ایسے عذاب ذلت واقع ہوتے رہے ہیں اور ہو دیں گے۔حتی کہ کاذب کی موت بھی مباہلہ میں شرط نہیں ہے کیونکہ منشا اہل مباہلہ کا صرف کاذب پر وقوع لعنت کا ہے خواہ کسی طرح سے ہو۔یہ اس علیم وخبیر کے اختیار میں ہے کہ بقدر تکذیب و تشد د مخالفین کے وہ لعنت کسی عذاب مسلک سے ہی واقع ہو۔موت ہو یا قتل وغیرہ۔پس ایک خاص عذاب کذائی کی نفی اور لعنت الہی کے ثبوت میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ ایمان بالغیب کی حکمت کے مانع نہیں اور اجبار بھی اس میں نہیں ہو سکتا۔چنانچہ سرداران مکہ میں سے ایک شخص مسمی نفر بن حارث تھا اور نیز ابو جمل جس نے یہ دعا کی تھی کہ اللهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقُّ (انفال:۳۳)۔تو دیکھو جنگ بدر میں ابو جہل تو عذاب قتل میں مبتلا ہوا بسبب اپنے تشدد کے اور نضر بن حارث باوجودیکہ قیدیوں میں قید ہو کر آیا تھا۔دوسرے قیدی تو فدیہ لے کر چھوڑ دئے گئے تھے مگر نضر بن حارث بایں وجہ قتل کیا گیا کہ قرآن مجید کی شان میں بڑی بڑی گستاخیاں کیا کرتا تھا اور سخت معاند تھا۔تو یہ دونوں منجملہ ستر مقتولوں کے عذاب قتل میں اس لئے جتلا ہوئے کہ یہ بھی اہل اسلام کے قتل کے درپے تھے ورنہ مسالہ