خطبات نور — Page 187
187 اپنے وعدوں کو بھول جاتا ہے۔اس کا نتیجہ پھر خطرناک ہوتا اور اسے محروم کر دیتا ہے۔میرے نزدیک اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرنے کے برابر ہی وہ معاہدہ ہے جو انسان اپنے امام و مرشد کے ہاتھ پر کرتا ہے۔جیسا کہ ہم نے کیا ہے کہ ”دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔کہنے کو یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے لیکن اس کے معانی پر غور کرو کہ کس قدر وسیع ہیں۔حتی علی الصلوة کی آواز آتی ہے اور یہ سنتا ہے لیکن دیکھتا ہے کہ بہت سے ضروری کام کرنے کو ہیں اور ان سے اگر ذراسی بھی لاپروائی کی تو حرج ہو گا۔اس لئے فرض تنہا ہی میں ادا کرلوں گا۔یہ خیالات دل میں ایک طرف ہیں۔دوسری طرف حئی کا لفظ بتاتا ہے کہ جلدی کرو اور ادھر یہ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔اب اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت مقدم کرتا اور حَيَّ عَلَى الصَّلوة کی آواز پر مسجد کو چلتا ہے تو بیشک اس معاہدہ کو پورا کرنے والا ٹھرتا ہے لیکن اگر تساہل کرتا ہے تو اس معاہدہ کو توڑتا ہے۔اسی طرح دنیا کے ہر کاروبار میں اس قسم کے امتحان اور مشکلات پیش آتے ہیں۔ایک طرف بیوی بچوں کے لئے خرچ کی ضرورت ہے۔ادھر قرآن کریم میں پڑھتا ہے لا تُسْرِفُوا (الاعراف:۳۲) اور إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ (بنی اسرائیل (۳۸) اور ایک طرف دین مال و عزت اور جان خرچ کرانی چاہتا ہے۔اس وقت اپنے اندرونہ کا معائنہ کرے اور اپنے فعل سے دکھائے کہ کیا دین کو مقدم کرتا ہے یا دنیا کو۔غرض ہر حکم الہی میں اس کو سوچنا پڑتا ہے کہ دین کو مقدم کرتا ہوں یا دنیا کو۔کسی تقریر اور ما کام لے رہا ہوں یا کچے اخلاص سے۔اپنے ہر قول اور فعل کی پڑتال کرے کہ کیا واقعی خدا تعالی کے لئے ہے یا دنیوی اغراض اور مقاصد پیش نظر ہیں۔پس اپنے اس بڑے عظیم الشان معاہدہ کو اپنے پیش نظر رکھو۔یہ معاہدہ تم نے معمولی انسان کے ہاتھ پر نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کے مرسل مسیح و مہدی کے ہاتھ پر کیا ہے۔اور میں تو یقین سے کہتا ہوں کہ خدا کے مرسل ہی نہیں خدا کے ہاتھ پر کیا ہے کیونکہ يَدَ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح) آیا ہے۔دیکھو اور اپنے حالات خود مطالعہ کرو کہ کیا جس قدر تڑپ کوشش اور اضطراب دنیوی اور ان ان ضروریات کے لئے دل میں ہے کم از کم اتناہی جوش دینی ضروریات کے لئے بھی ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو پھر دین کو دنیا پر تقدم تو کہاں برابری بھی نصیب نہ ہوئی۔ایسی صورت میں وہ معاہدہ جو امام کے ہاتھ پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ پر کیا ہے کہاں پورا کیا۔میں نے خود تجربہ کیا ہے۔ہزاروں خطوط میرے پاس آتے ہیں جن میں ظاہری بیماریوں کے ہاتھ سے نالاں لوگوں نے جو جو اضطراب ظاہر کیا ہے میں اسے