خطبات نور — Page 186
186 مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ الله (الانعام:۳۵) یعنی اس وقت تک ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی فیض اور فضل نہ دیا جاوے جو رسولوں کو دیا گیا ہے۔یہ بھی محرومی کا بڑا بھاری ذریعہ ہے۔جو لوگ ایمان کو مشروط کرتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی پروا نہیں کرتا۔ہاں خدا تعالیٰ کسی کو خالی نہیں چھوڑتا۔جو اس کی راہ میں صدق و ثبات سے قدم رکھتا ہے وہ بھی اس قسم کے انعامات سے بہرہ وافر لے لیتا ہے۔جیسے فرمایا إِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ حم السجدة) جن لوگوں نے اپنے قول و فعل سے بتایا کہ ہمارا رب اللہ تعالیٰ ہے، پھر انہوں نے اس پر استقامت دکھائی ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ سے پہلے دو باتیں ضروری ہیں۔رَبُّنَا اللہ کا اقرار اور اس پر صدق و ثبات اور اظہار استقامت۔ایک نادان سنت اللہ سے ناواقف ان مراحل کو تو طے نہیں کرتا اور امید رکھتا ہے اس مقام پر پہنچنے کی جو ان کے بعد واقع ہے۔یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے۔اس قسم کے شیطانی وسوسوں سے بھی الگ رہنا چاہئے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں استقامت اور عجز کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔قوئی سے کام لو۔اس کی مدد طلب کرو۔پھر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے وارث ہو جاؤ اور حقیقی رؤیا اور الہام سے حصہ پاؤ۔اللہ تعالی کے ہاں تو کسی بات کی کمی نہیں وانی من شَيِّ إِلَّا عِنْدَنَا خَزائِنُهُ وَمَا تُنزِلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ معلوم (الحجر: ۲۲)۔پھر سوال ہوتا ہے کہ اس قسم کے شیطانی اوہام اور وسوسوں سے بچنے کا کیا طریق ہے؟ سو اس کا طریق یہی ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار پڑھو۔استغفار سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ طوطے کی طرح ایک لفظ رشتے رہو۔بلکہ اصل غرض یہ ہے کہ استغفار کے مفہوم اور مطلب کو ملحوظ رکھ کر خدا تعالیٰ سے مدد چاہو اور وہ یہ ہے کہ جو انسانی کمزوریاں صادر ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بد نتائج سے محفوظ رکھے اور آئندہ کے لئے ان کمزوریوں کو دور کرے اور ان جوشوں کو جو ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں دبائے رکھے ، پھر لاحول پڑھے پھر دعاؤں سے کام لے اور جہاں تک ممکن ہو راستبازوں کی صحبت میں رہے۔اگر اس نسخہ پر عمل کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یقین رکھتا ہوں کہ وہ تمہیں محروم نہ کرے گا۔کچھ محرومی کا ایک اور سبب بھی ہوتا ہے۔وہ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان مشکلات اور مصائب کے وقت اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ کر لیتا ہے کہ یا اللہ ! اگر میرا فلاں کام ہو جاوے اور فلاں دکھ سے مجھے رہائی اور نجات ہو تو میں یہ فرمانبرداری کا کام کروں گا۔اللہ تعالیٰ اسے ان مشکلات سے نجات دیتا ہے لیکن وہ