خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 188 of 703

خطبات نور — Page 188

188 دیکھتا ہوں لیکن مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ وہ ظاہری بیماریوں کے لئے تو اس قدر گھبراہٹ ظاہر کرتے ہیں مگر باطنی اور اندرونی بیماریوں کے لئے انہیں کوئی تڑپ نہیں۔باطنی بیماریاں کیا ہوتی ہیں؟ یہی بدظنی منصوبہ بازی، تکبر، دوسرے کی تحقیر، غیبت اور اس قسم کی بدذاتیاں اور شرارتیں، شرک، ماموروں کا انکار وغیرہ۔ان امراض کا وہ کچھ بھی فکر نہیں کرتے اور معالج کی تلاش انہیں نہیں ہوتی۔میں جب ان بیماریوں کے خطوط پڑھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ کیوں یہ اپنے روحانی امراض کا فکر نہیں کرتے۔ہی۔نفس کو کبھی تو کل اور صبر کے مسائل پیش کر دیتا ہے لیکن جب ظاہری بیماریاں آکر غلبہ کرتی ہیں تو پھر سب کچھ بھول جاتا ہے اور تردد کرتا ہے۔لیکن جب روحانی بیماریوں کا ذکر ہو تو تو کل کا نام لے دیتا ہے۔یہ کیسی غلطی اور فروگذاشت ہے۔ان دونوں نظاموں کو مختلف پیمانوں اور نظروں سے دیکھتا ہے۔یعنی باطنی اور روحانی امور میں تو کہہ دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے اور ظاہری امور میں اس کا نام شدید البلش رکھا ہے۔یہ نادانی اور غلطی ہے۔خدا تعالی دونوں امور میں اپنی صفات کی یکساں جلوہ نمائی کرتا ہے۔پس جو لوگ امور دنیا میں تو سر توڑ کوششیں کرتے ہیں اور اسی کو اپنی زندگی کا اصل مقصد اور غشاء اعظم سمجھتے ہیں اور دین کو بالکل چھوڑتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔خدا تعالی کی عظمت اور اس کی صفات پر غور نہیں کرتے۔اسلیم کے معنے تو یہ تھے کہ فرمانبردار ہو جا اور فرمانبردار ہی رہو۔پھر وجہ کیا ہے کہ مامور کے ہاتھ پر جو خدا کا ہاتھ کہلاتا ہے یہ وعدہ کر کے کہ ”دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اس وعدہ کا کچھ بھی پاس نہ ہو۔ہمارے امام علیہ الصلوۃ والسلام کس قدر چھوٹے لفظ سے کام لیتے ہیں اور وہ کس قدر وسیع ہے۔یہ زمانہ الفاظ کا ہے۔چنانچہ بڑی بڑی لمبی تقریریں لوگ کرتے ہیں لیکن جب ان کے معافی اور مطالب پر نظر کرو تو بہت ہی چھوٹے اور تھوڑے۔لیکن برخلاف اس کے ہمارے امام علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت ہی مختصر الفاظ اختیار کئے مگر ان کا مفہوم اور منشاء بہت ہی وسیع اور محیط ہے۔مثلاً الفاظ بیعت میں سے ایک یہ جملہ بھی ہے ”جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے گناہوں سے بچتا رہوں گا۔بظاہر یہ ایک موٹی اور چھوٹی سی بات ہے لیکن غور کرو اس کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ایسا اقرار کرنے والے کو یہ الفاظ کیسا محتاط بناتے ہیں کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں ، ہر حرکت و سکون میں اس امر کو مد نظر رکھے کہ کیا میرا یہ قول و فعل ، یہ حرکت و سکون اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہے اور گناہ کے کسی شعبہ میں تو داخل نہیں؟ جب انسان ان امور پر نظر کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی اطاعت اور رضا جوئی اپنا مقصد بنالیتا ہے تو خدا تعالیٰ خود اس کی مدد فرماتا ہے اور اس کی مشکلات کو آسان