خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 112 of 703

خطبات نور — Page 112

112 ہو کہ رنج میں، راحت میں، عسر میں یسر میں ، باساء میں، ضراء میں، غرض ہر حالت میں قدم آگے بڑھانے والا ہو اور اللہ جل شانہ کی وفاداری میں چست ہو۔اس کو حاجتیں پیش آتی ہیں مگر وہ اس کے ایمان کو ہر حال میں بڑھانے والی ہوتی ہیں کیونکہ بعض وقت حاجت پیش آتی ہے تو دعا کا دروازہ اس پر کھلتا ہے اور توجہ الی اللہ اور تضرع الی اللہ کے دروازے اس پر کھلتے ہیں اور اس طرح پر وہ حاجتیں مال و جان کی ہوں، عزت و آبرو کی ہوں، غرض دنیا کی ہوں یا دین کی اس کے تقرب الی اللہ کا باعث ہو جاتی ہیں۔کیونکہ جب وہ دعائیں کرتا ہے اور ایک سوز و رقت اور دلگد از طبیعت سے باب اللہ پر گرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کامیاب ہو جاتا ہے تو باب شکر اس پر کھلتا ہے اور پھر وہ سجدات شکر بجالا کر ازدیاد نعمت کا وارث ہوتا ہے جو ثمرات شکر میں ہیں۔اور اگر کسی وقت بظاہر ناکامی ہوتی ہے تو پھر صبر کے دروازے اس پر کھلتے ہیں اور رضا بِالْقَضَاءِ کے ثمرات لینے کو تیار ہوتا ہے۔اسی طرح یہ حاجتیں جب کسی بد بخت انسان کو آتی ہیں اور وہ مالی جانی یا اور مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ حاجتیں اور بھی اس کی دوری اور مہجوری کا باعث ہو جاتی ہیں۔کیونکہ وہ بے قرار مضطرب ہو کر قلق کرتا اور نا امید اور مایوس ہو کر مخلوق کے دروازہ پر گرتا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ سے ایسا بیگانہ اور نا آشنا ہوتا ہے کہ ہر قسم کے فریب و دعا سے کام لینا چاہتا ہے۔اگر کبھی کامیاب ہو جائے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ذکر اور اس کی حمد وستائش کا موقع نہیں ملتا۔بلکہ وہ اپنی کرتوتوں اور فریب و دغا اور چالبازیوں کی تعریف کرتا اور شیخی اور تکبر میں ترقی کرتا اور اپنی حیل و تجاویز پر عجب و ناز کرتا ہے۔اگر ناکام ہوتا ہے تو رضًا بِالْقَضَاءِ کے بدلے اس کی مقادیر کو کوستا اور بری نگاہ سے دیکھتا اور اپنے رب کا شکوہ کرتا ہے۔غرض یہ حاجتیں تو سب کو ہیں اور انبیاء اولیاء و صدیقوں اور تمام منعم علیہ گروہ کے لئے بھی مقدر ہوتی ہیں مگر سعید الفطرت کے لئے وہ تقرب الی اللہ کا باعث ہو جاتی اور اس کو مزید انعامات کا وارث بنا دیتی ہیں اور شقی مضطرب ہو کر قلق کرتا ہے اور ناکام ہو کر سُخط عَلَی اللہ کر بیٹھتا ہے۔کامیابی پر وہ مبتلافی الشرک ہو جاتا ہے اور ناکامی پر مایوس۔مشکلات اور حوائج کیوں آتے ہیں؟ ان میں بار یک دربار یک مصالح الیہ ہوتے ہیں۔کیونکہ مشکلات میں وسائط کا مہیا کرنا تو ضروری ہوتا ہے۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مَنْ يَّشْفَعُ شَفَاعَةً حَسَنَةٌ (النساء:۸۴) کا ثواب لینا بھی کیسی نعمت الہی ہے اور پھر ان میں یہ حکمت ہوتی ہے کہ ان خدمات کے ثمرات، مساعی جمیلہ ان کی فکر اور محنت پر اللہ تعالیٰ کو انعام دینا منظور ہوتا ہے اور اس طرح پر نہ سنن النی باطل ہوتے ہیں اور نہ سلسلہ علم ظاہری کا باطل ہوتا ہے۔