خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 111 of 703

خطبات نور — Page 111

جنوری ۱۹۰۳ء 111 خطبہ جمعۃ الوداع (ایڈیٹر "الحلم" کے الفاظ میں) وَ مَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَ لَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا وَ إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ (البقرة:۱۳۱) ان آیتوں میں، ان کلمات شریفہ میں اللہ تعالیٰ ایک شخص کی راہ پر چلنے کی ہدایت فرماتا ہے اور وہ انسان اس قسم کا ہے جس کو ہر مذہب و ملت کے لوگ عموماً یا غالبا عظمت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔وہ کون؟ ابوالانبیاء حنفاء کا باپ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام۔یہ ابراہیم وہ ہے جس کی نسبت اس سے پہلے فرمایا۔وَإِذَ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمْتِ فَأَتَمَّهُنَّ (البقرة :۳۵) کہ جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے بدلے انعام دینا چاہا تو اس نے ان کو پورا کر دکھایا۔اللہ تعالیٰ جب انسان کو بچے علوم عطا کرتا ہے اور اس کا ان علوم کے مطابق عملد رآمد ہو پھر اس میں قوت مقناطیسی پیدا ہو جاتی ہے اور نیکیوں کا نمونہ ہو کر دوسروں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔یہ درجہ اس کو تب ملتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کا وفادار بندہ ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایسا ثابت قدم اور مستقل مزاج