خطبات نور — Page 105
105 وَنَشْهَدُ اَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ۔پھر عظیم الشان اصولوں میں سے یہ اصل بتائی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو اپنا معبود محبوب اور مطاع نہ بناؤ۔اللہ وہ ذات کامل ہے جو ہر نقص سے منزہ اور خوبی سے موصوف ہے۔اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود محبوب مطاع بنانا اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کیا آنکھ سے بد نظری کرتا ہے یا نہیں ؟ کان سے حرص و ہوا کی باتیں سنتا ہے یا نہیں؟ ناک کے خیال سے تکبر اور فضول خرچیاں کرتا ہے یا نہیں؟ پھر زبان، غرض کل اعضاء فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں یا نہیں؟ مختصر یہ کہ کوئی خوف اور امید اگر مخلوق سے ہے تو سمجھ لو کہ لا اله الا الله کے معنوں سے بے خبری ہے یا بے پروائی ہے۔لا إله إلا الله کو ماننے والا کسی کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑا نہیں ہو سکتا اور نہ رکوع سجود کر سکتا ہے۔ایسا ہی مخلوق کے لئے نہ قربانی دے سکتا ہے اور نہ اپنے مال کا ایک مقرر حصہ مخلوق میں سے کسی کے لئے الگ کر سکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے الگ کرنے کا حکم ہے بلکہ ساری باتوں میں وہ اپنا معبود مسجود اللہ ہی کو مارتا ہے اور اپنی امید و نیم کو اسی سے وابستہ کرتا ہے۔ہر ایک کام اس کی رضا کے لئے کرتا یہاں تک کہ کھانا اس لئے کھاتا ہے کہ "كُلُوا" کا حکم ہے۔اور پیتا اس لئے کہ "اشْرِبُوا" کا حکم ہے۔بیوی سے معاشرت کرے نہ اس لئے کہ طبعی تقاضا ہے بلکہ اس لئے کہ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:۳۰) کا حکم ہے اور اس لئے کہ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ (البقرۃ:۱۸۸) کا ارشاد ہے۔اس سے نیکی کے کاموں میں پہلا جزو پیدا ہو گا، جس کو اخلاص کہتے ہیں۔پھر ان سارے کاموں میں صواب ہو اور یہ تب حاصل ہو سکتا ہے کہ ساری الہی رضامندیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع اور حکم کے نیچے ہوں۔کیونکہ وہ کامل انسان اللہ تعالیٰ کا سچا پر ستار بندہ تھا اور ہماری اصلاح کے لئے اللہ تعالی نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ان کے سوا الی رضا ہم معلوم نہیں کر سکتے اور اسی لئے فرمایا قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله (ال عمران:۳۲۔جس طرح پر اس نے اپنے غیب اور اپنی رضا کی راہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ظاہر کی ہیں اسی طرح پر اب بھی اس کی غلامی میں وہ ان تمام امور کو ظاہر فرماتا ہے۔اگر کوئی انسان اس وقت ہمارے درمیان آدم نوح، ابراہیم موسیٰ عیسی ، داؤد محمد احمد ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ سے ہے اور آپ ہی کی چادر کے نیچے ہو کر ہے۔کوئی راہ اگر اس وقت کھلتی ہے اور کھلی ہے تو وہ آپ میں ہو کر۔ورنہ یقینا یقینا سب راہیں بند ہیں۔کوئی شخص براہ راست اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل نہیں کر سکتا۔اگر کوئی اس وقت یہ کہے کہ ”من چہ پروائے مصطفے دارم" اور پھر وہ ہمارا مقتدا اور امام اور مطاع بنتا چاہے تو یاد رکھو کہ وہ ہمارا امام اور مقتدا