خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 104 of 703

خطبات نور — Page 104

104 وسلم ہیں جو خاتم النبین ہیں۔اور اب کوئی نبی اور رسول آپ کے سوا نہیں ہو سکتا۔اس وقت بھی جو آیا وہ اس کا غلام ہی ہو کر آیا ہے۔اور پھر یہ تعلیم دی کہ نَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ یہ بات ہم میں پیدا ہو کہ اللہ تعالٰی نے جو چیزیں جس مطلب اور غرض کے لئے بنائی ہیں وہ اپنے نتائج اور ثمرات اپنے ساتھ ضرور رکھتے ہیں۔اس لئے اس پر ایمان ہونا چاہئے کہ لابد ایمان کے ثمرات اور نتائج ضرور حاصل ہوں گے اور کفر اپنے بد نتائج دیئے بغیر نہ رہے گا۔انسان بڑی غلطی کرتا اور دھوکا کھا جاتا ہے، جب وہ اس اصل کو بھول جاتا ہے۔اعمال اور اس کے نتائج کو ہرگز ہرگز ہرگز بھولنا نہیں چاہئے۔سعی اور کوشش کو ترک کرنا نہیں چاہئے۔اور پھر یہ تعلیم دی وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيِّاتِ اَعْمَالِنَا۔انسان اپنی کمزوریوں پر پوری اطلاع نہیں رکھتا اور بعض وقت نقد کو ادھار پر پسند کرتا اور ترجیح دیتا ہے۔پیش پا افتادہ اور زیر دست چیزیں مقبول نگاہ ہوتی ہیں۔اس لئے الہی احکام کو اپنی غلطی سے بھول جاتا ہے یا ان کے ثمرات اور نتائج کو اپنی غلطی اور نادانی سے ادھار اور دوسرے ہی جہان پر منحصر سمجھ کر سستی اور لاپروائی کرتا ہے اور اس طرح پر اصل مقصد سے دور جاپڑتا ہے۔اس غلطی کو دور کرنے اور اس کے برے نتائج سے محفوظ رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيَأْتِ اَعْمَالِنَا کہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجائیں۔کیونکہ بڑی پناہ اور معاذ اللہ تعالی ہی کی پناہ ہے جو ساری قدرتوں اور قوتوں کا مالک اور مولیٰ ہے اور ہر نقص سے پاک ہر کامل صفت سے موصوف۔پہلے ضروری ہے کہ شُرُورِ أَنْفُسِنَا سے پناہ مانگیں۔انسان کی اندورنی بدیاں اور شرارتیں اکثر اس کو ہلاک کر دیتی ہیں۔مثلاً شہوت کے مقابلہ میں زیر ہو جاتا اور عفت کو ترک کرتا ہے۔بد نظری اور زنا کا ارتکاب کرتا ہے۔علم کو چھوڑتا ہے اور غضب کو اختیار کرتا ہے اور کبھی قاعت کو جو بچی خوشحالی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، چھوڑ کر حرص و طمع کا پابند ہو جاتا اور کبھی ہمت بلند اور استقلال نہیں رہتا بلکہ پست ہمتی اور غیر مستقل مزاجی میں پھنس جاتا ہے۔سعی اور مجاہدہ کو ترک کرتا اور کسل میں مبتلا ہوتا ہے۔یہ نفسانی شرور ہیں۔اس لئے ان تمام شرارتوں اور ان کے برے نتائج سے بچنے کے لئے اللہ تعالی ہی کی پناہ لینی چاہئے اور پھر بد اعمال کے بدنتائج ہیں۔ان سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتا جب تک اللہ تعالٰی کی پناہ میں نہ ہو۔غرض اصل تو یہ ہے مَنْ يُهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ الله کے سوا کوئی بادی نہیں جس کے پاس گمراہی کاڈر نہیں اور جس کو اللہ ہلاک کرے اس کو کوئی با مراد نہیں کر سکتا۔