خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 703

خطبات نور — Page 102

102 ہے۔یہ انعام کیا کم انعام ہے۔سوچ کر دیکھو کہ ساری دنیا کی کل صداقتیں، وہ تمام ذریعے جو روح کی پرورش کے تھے، وہ سب مہیمن کتاب مجید میں جس کا نام نور شفا رحمت برکت ہے، ہم کو دی گئی ہے اور پھر عربيٌّ مُّبِین میں جیسی صاف اور کھلی سہولت اور میسر سے دی گئی وہ سب صداقتیں مدلل اور مبرہن کر کے قرآن شریف نے بیان کی ہیں اور نہایت سہل الفاظ میں جو میرے خیال میں چار ہزار سے زیادہ لغت نہیں۔پھر پہنچانے والا ایسی طاقت اور تاثیر رکھتا ہے کہ باید و شاید۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وبَارِك وَسَلّمْ یعنی محمد بن عبد اللہ اور بن آمنہ کسی طرح کا وہ معلم اور ہادی ہے اور کس طرح سے اس کی پاک تاثیروں نے ایک تبدیلی کی؟ وہ اسی ایک واقعہ سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس نے حیرت انگیز آئینہ نمائع اپنی قوم پر جو عرب تھی حاصل کی اور ایسی فتح کہ ایک بھی مخالف نہ رہا اور پھر یہ کس قدر تعجب انگیز کہو یا آیت مبینہ اثر ہے کہ تیرہ سو برس پہلے مکہ اور مدینہ میں جس قسم کے فیوض اور برکات آپ کے پاک انفاس سے پہنچے اور آپ کی تعلیم و تربیت نے جو اثر اس وقت پیدا کیا آج تیرہ سو برس کے بعد بھی اسی کی تعلیم و تربیت کے نیچے اس کا غلام موجود ہے۔(غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام) اور پھر کیا بلحاظ اس انعام اور فضل کے جو ہم پر اللہ تعالیٰ نے کیا کہ تیرہ سو برس سے جس کے دیکھنے کو ہزاروں لاکھوں، کروڑوں مخلوق کی آنکھیں ترستی گئی ہیں اور امت کے صلحا اور اولیاء اور علماء ربانی جس کو سلام کہتے گئے ، ہم نے اس کا زمانہ پالیا۔اور پھر جس سے اکثر لوگوں کی بد بختی نے انہیں محروم رکھا ہمیں اس کی غلامی کا شرف عطا فرمایا اور اس طرح پر ہم پر وہ انعام کیا کہ جیسے اولین میں ایک نبی اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھا، آخرین میں بھی اسی طرح آپ کا تابع نبی صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہے۔اس لئے جب ہم پر یہ انعام یہ فضل ہوئے ہیں تو اور بھی زیادہ ہمیں ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں۔نَسْتَعِينُه لیکن انسان چونکہ ایک کمزور اور ضعیف ہستی ہے اس لئے ہر آن اور ہر حالت میں اسی رب العالمین اور تمام صفات کاملہ سے موصوف اور تمام نقائص اور بدیوں سے منزہ ذات اللہ تعالیٰ سے استمداد کی ضرورت ہے۔انسان کا فانی جسم ہر آن تغیرات کے نیچے ہے اور کمزور روح علوم میں اس فانی اور کمزور جسم کی محتاج ہے۔کیونکہ وہ اس جسم اور ذرات کے بغیر کوئی راحت یا علم و صداقت حاصل نہیں کر سکتی اور سارے علوم اور صداقتیں زبان کان، آنکھ، ناک اور ٹولنے کی حس کے ذریعہ سے پہنچتی ہیں۔مگر یہ جسم فانی ہے اور ہر آن تنزل کی حالت پیدا کرتا ہے۔فضلے پیدا ہو کر جسم سے نکلتے رہتے