خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 103 of 703

خطبات نور — Page 103

103 ہیں۔ایسی حالت میں صاف ظاہر ہے کہ روح کا ذریعہ فانی اور کمزور ہے۔پھر کیسے ترقی کرے، جب تک اللہ تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو۔اسی محسن نے کیسی پاک راہ بتائی اور کچے اور حقیقی محسن اللہ کی بتائی ہوئی بتائی کہ اللہ کے فضل اور احسان کے بغیر ایک آن گزارہ نہیں ہو سکتا۔اسی لئے ہم اس کی ہی مدد چاہتے ہیں۔وَنَسْتَغْفِرُه پھر ایک اور تعلیم دی اور وہ استغفار کی تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ کے وسیع قانون اور زبردست حکم اس قسم کے ہیں کہ انسان بعض بدیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے بڑے بڑے فضلوں سے محروم رہ جاتا ہے۔جب انسان کوئی غلطی کرتا اور خدا تعالیٰ کے کسی قانون اور حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ غلطی اور کمزوری اس کی راہ میں ایک روک ہو جاتی ہے اور یہ عظیم الشان فضل اور انعام سے محروم کیا جاتا ہے۔اس لئے اس محرومی سے بچانے کے لئے یہ تعلیم دی کہ استغفار کرو۔یہ تعلیم بھی اللہ تعالیٰ کا محض فضل ہے۔استغفار کیا ہے؟ پچھلی کمزوریوں کو جو خواہ عمد ا ہوں یا سہواً اور نسیان اور خطا سے۔غرض مَا قَدَّمَ وَاَخَرَ جو نہ کرنے کا کام آگے کیا اور جو نیک کام کرنے سے رہ گیا ہے، اپنی تمام کمزوریوں اور اللہ تعالیٰ کی ساری نارضامندیوں کو اَعْلَمُ وَلا اَعْلَمُ کے نیچے رکھ کر یہ دعا کرے کہ میری غلطیوں کے بدنتائج اور بد اثر سے مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان غلط کاریوں سے محفوظ فرما۔یہ ہیں استغفار کے مختصر سے معنے۔بارہا ہمارے امام علیہ الصلوۃ و السلام لوگوں کو استغفار بتاتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ وہ اکثر مجھ سے آکر پوچھتے ہیں کہ استغفار کی کتنی تنبیجیں کریں اور آپ کے یہاں کونسا استغفار معمول ہے۔اس لئے میں نے بتایا ہے کہ سچا استغفار یہی ہے کہ انسان اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو یاد کر کے جناب الہی میں یہ طلب کرے کہ ان کمزوریوں کے برے نتائج سے محفوظ رکھ اور آئندہ کے لئے ان کمزوریوں سے محفوظ فرما۔وَنُؤْمِنُ بِہ اور ہم پھر اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ جمیع صفات کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزہ ہے۔وہ اپنی ذات میں اپنی صفات میں اسماء اور محامد اور افعال میں واحد لا شریک ہے۔وہ اپنی ذات میں یکتا، صفات میں بے ہمتا اور افعال میں لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَیءُ (الشوری:۱۲) اور بے نظیر ہے۔اور اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنی رضامندی اور ناراضی کی راہوں کو ظاہر کرتا رہا ہے اور ملائکہ کے ذریعہ اپنا کلام پاک اپنے نبیوں اور رسولوں کو پہنچاتا رہا ہے اور اس کی بھیجی ہوئی کتابوں میں آخری کتاب قرآن شریف ہے جس کا نام شفاء فضل، رحمت اور نور ہے اور آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ