خطبات نور — Page 92
92 جھوٹ ملاتے ہیں اسی طرح اس سچائی کا بھی خون کریں۔اس لئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ دست کی باتیں ہیں۔یہ وعدے اور یہ پیشگوئیاں اپنے ہی خیالات کا عکس ہیں۔دوستوں کے لئے بشارتیں اور اعداء کے لئے انذار۔یہ جنون کا رنگ رکھتے ہیں۔عیسائی اور آریہ اب تک اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں اپنے مطلب کی وحی بنا لیتے ہیں۔اور دور کیوں جائیں اس وقت کے کم عقل مخالف بھی یہی کہتے ہیں۔مگر ایک عجیب بات میرے دل میں کھٹکتی ہے کہ وہ کافر جو نوح علیہ السلام کے مقابل میں تھے انہوں نے یہ کہا فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّی حِيْنِ (المومنون (۲۶) چند روز اور انتظار کر لو۔اگر یہ جھوٹا اور کاذب مفتری ہے تو خود ہی ہلاک ہو جاوے گا۔مگر ہمارے وقت کے ناعاقبت اندیش اندھوں اور نادانوں کو اتنی بھی خبر نہیں اور ان میں اتنی بھی صلاحیت اور صبر نہیں جو نوح کے مخالفوں میں تھا۔وہ کہتے ہیں فَتَرَبَّصُوا بِهِ حَتَّى حِيْنِ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ کاذب کا انجام اچھا نہیں ہو تا۔اس کی گردن پر جھوٹ سوار ہوتا ہے۔خود اس کا جھوٹ ہی اس کی ہلاکت کے لئے کافی ہوتا ہے۔مگر وہ لوگ کیسے کم عقل اور نادان ہیں جو اس سچائی سے بھی دور جاپڑے ہیں اور اس معیار پر صادق اور کاذب کی شناخت نہیں کر سکے۔میرے سامنے بعض نادانوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ مفتری کے لئے مہلت مل جاتی ہے۔قطع نظر اس بات کے کہ ان کے ایسے بیہودہ دعویٰ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور آپ کی نبوت پر کس قدر حرف آتا ہے ، قطع نظر اس کے ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں ہو تا کہ قرآن کریم کی پاک تعلیم پر اس قسم کے اعتراف سے کیا حرف آتا ہے اور کیونکر انبیاء و رسل کے پاک سلسلہ پر سے امن اٹھ جاتا ہے؟ پوچھتا ہوں کہ کوئی ہمیں بتائے کہ آدم سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک اور آپ سے لے کر اس وقت تک کیا کوئی ایسا مفتری گذرا ہے جس نے یہ دعوی کیا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اور وہ کلام جس کی بابت اس نے دعوی کیا ہو کہ خدا کا کلام ہے، اس نے شائع کیا ہو اور پھر اسے مہلت ملی ہو۔قرآن شریف میں ایسے مفتری کا تذکرہ یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اقوال میں پاک لوگوں کے بیان میں اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہ اس نے تَقَوَّلَ عَلَى اللهِ کیا ہو اور بچ گیا ہو۔میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مفتری بھی پیش نہ کر سکیں گے۔مہلت کا زمانہ میرے نزدیک وہ ہے جبکہ مکہ میں اللہ تعالیٰ کا کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر یوں نازل ہوا۔لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلِ - لا حَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِيْنَ (الحاقه ۲۵ تا ۳۸) اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنالیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے حالانکہ وہ اس کا اپنا کلام ہوتا نہ خدا کا تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے