خطبات نور — Page 91
91 مشتمل ہیں کہ ان پر بہت سے اعتراض ہو سکتے ہیں۔غرض وہ کونسی صفت خدا میں ہے جو مسیح میں نہیں مانتے۔اس پر بھی جو ایک خدا کے ماننے کی تعلیم دیتا ہے اور خدا کی عظمت و جلال کو اسی طرح قائم کرنا چاہتا ہے جیسے انبیاء کی فطرت میں ہوتا ہے، اس پر اعتراض کیا جاتا ہے اور اس کی تعلیم کو کہا جاتا ہے کہ سلف کے اقوال میں اس کے آثار نہیں پائے جاتے۔افسوس! یہ لوگ اگر انبیاء علیہم السلام کی مشترکہ تعلیم کو پڑھتے اور قرآن شریف میں ماموروں کے قصص اور ان کے مخالفوں کے اعتراضوں اور حالات پر غور کرتے تو انہیں صاف سمجھ میں آجاتا کہ یہ وہی پرانی تعلیم ہے جو نوح، ابراہیم موسیٰ، عیسی علیم السلام اور سب سے آخر خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر آیا تھا۔اگر تعلیم پر غورنہ کر سکتے تھے تو ان اپنے اعتراضوں ہی کو دیکھتے کہ کیا یہ وہی تو نہیں جو اس سے پہلے ہر زمانہ میں ہر مامور پر کئے گئے ہیں۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ یہ قرآن شریف کو پڑھتے ہی نہیں۔غرض یہ بھی ایک مرحلہ ہوتا ہے جو مامور من اللہ اور اس کے مخالفوں کو پیش آتا ہے اور اس زمانہ میں بھی پیش آیا۔پھر یہ لوگ گھبرا اٹھتے ہیں اور لوگوں کو دین الہی کی طرف رجوع کرتا ہوا پاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان کی مخالفتیں اور عداوتیں مامور کے حوصلے اور ہمت کو پست نہیں کر سکتی ہیں اور وہ ہر آئے دن بڑھ بڑھ کر اپنی تبلیغ کرتا ہے اور نہیں تھکتا اور درماندہ نہیں ہو تا اور اپنی کامیابی اور مخالفوں کی ہلاکت کی پیشگوئیاں کرتا ہے۔جیسے نوح علیہ السلام نے کہا کہ تم غرق ہو جاؤ گے اور خدا کے حکم سے کشتی بنانے لگے تو وہ اس پر ہنسی کرتے تھے۔نوح نے کیا کہا؟ إِن تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ (عود ۱۳ اگر تم نہیں کرتے ہو تو ہم بھی ہنسی کرتے ہیں اور تمہیں انجام کا پتہ لگ جاوے گا کہ گندے مقابلہ کا کیا نتیجہ ہوا۔اسی طرح پر فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ سن کر کہا قَوْمُهُمَا لَنَا عبدُونَ (المومنون:۳۸) ان دونوں کی قوم تو ہماری غلام رہی ہے۔هُوَ مَهِينٌ وَّلَا يَكَادُ يُبِينُ الز حرف ملا یہ کمینہ ہے اور بولنے کی اس کو مقدرت نہیں۔اور ایسا کہا کہ اگر خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں ملا۔غرض یہ لوگ اسی قسم کے اعتراض کرتے جاتے ہیں۔اور جب اس کی انتھک کوششوں اور مساعی کو دیکھتے ہیں اور اپنے اعتراضوں کا اس کی ہمت اور عزم پر کوئی اثر نہیں پاتے بلکہ قوم کا رجوع دیکھتے ہیں تو پھر کہتے ہیں إِذْ هُوَ الَّا رَجُلٌ وجِنَّةٌ (المومنون (۳۴) میاں یہ وہی آدمی ہے۔انسان جس قسم کی دحت لگاتا ہے اسی قسم کی رویا بھی ان کو ہو جاتی ہے۔اس قسم کے خیالات کے اظہار سے وہ یہ کرنا چاہتے ہیں کہ تا خدا کی پاک اور کچی وحی کو ملتبس کریں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جیسے رمال احمق، جفار گنڈے والے فال والے ایک سچائی کے ساتھ