خطبات نور — Page 81
81 تعظیم لامر اللہ کے واسطے نمازوں کو درست رکھنا اور شفقت علی خلق اللہ کے واسطے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کریں۔پھر اس بات پر ایمان لاو میں کہ ہمیشہ خدا تعالیٰ سے تسلی اور تعلیم پا کر دنیا کی اصلاح کے لئے معلم اور مزکی آئے ہیں۔یاد رکھو صرف علم تسلی بخش نہیں ہو سکتا جب تک معلم نہ ہو۔بائیبل میں نصیحتوں کا انبار موجود ہے اور عیسائی بھی بغل میں کتاب لئے پھرتے ہیں۔پھر اگر ایمان صرف کتابوں سے مل جاتا تو کیا کمی تھی۔مگر نہیں ، ایسا نہیں۔خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھیجتا ہے جو يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ (الجمعة:٣) الجمعۃ:۳) کے مصداق ہوتے ہیں۔ان مزکی اور مطہر لوگوں کی توجہ انفاس اور روح میں ایک برکت اور جذب ہوتا ہے جو ان کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے انسان کے اندر تزکیہ کا کام شروع کرتا ہے۔یاد رکھو انسان خدا کے حضور نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ کوئی اس پر خدا کی آیتیں تلاوت کرنے والا اور پھر تزکیہ کرنے والا اور پھر علم اور عمل کی قوت دینے والا نہ ہو۔تلاوت تب مفید ہو سکتی ہے کہ علم ہو اور علم تب مفید ہو سکتا ہے جب عمل ہو اور عمل تزکیہ سے پیدا ہوتا ہے اور علم معلم سے ملتا ہے۔بہر حال مومنوں کا ذکر ہے کہ ان کو ایمان بالغیب کی ضرورت ہے جس میں حشر و نشر صراط جنت و نار سب داخل ہیں۔یہ اس کا عقیدہ اول درست ہو جائے تو پھر نماز سے امرالہی کی تعظیم پیدا ہوتی ہے اور خدا کے دئے ہوئے میں سے خرچ کرنے سے شفقت علی خلق اللہ۔پھر برہموؤں کی طرح نہ ہو جاوے جو الہام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ خدا تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا کلام اتارا اور آپ سے پہلے بھی اور آپ کے بعد بھی مکالمات الہیہ کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔یہ تو منعم علیہ گروہ کا ذکر ہے۔اس کے بعد وہ لوگ مغضوب ہیں جو خدا کے ماموروں کے وجود اور عدم وجود کو برا سمجھ لیتے ہیں اور ان کے اندار اور عدم انذار کو مساوی جان لیتے ہیں اور پروا نہیں کرتے اور اپنے ہی علم و دانش پر خوش ہو جاتے ہیں۔وہ خدا کے غضب کے نیچے آجاتے ہیں۔یہی حال یہود کا ہوا۔پھر تیسرا گروہ گمراہوں کا ہے جن کا ذکر ان آیات میں ہے جو میں نے پڑھی ہیں۔اس کے کاموں میں دجل اور فریب ہوتا ہے۔وہ اپنے آپ کو کلام الہی کا خادم کہتے ہیں مگر مَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة :) بڑی بڑی تجارتیں کرتے ہیں مگر ہدایت کے بدلے تباہی خریدتے ہیں اور کوئی عمدہ فائدہ ان کی تجارت سے نہ ہوا۔