خطبات نور — Page 80
۲۲ نومبر ۱۹۰۱ء 80 خطبہ جمعہ ( خلاصه از ایڈیٹر الحکم ) تشہد، تعوذ اور تسمیہ کے بعد آپ نے سورۃ البقرہ کی آیات ۹ تا ۱۵ کی تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا:۔یہ آیتیں سورۃ بقرہ کے دوسرے رکوع کی ہیں۔الحمد شریف میں خدا تعالٰی نے تین راہیں بتائی ہیں۔ایک اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ دوسرے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ تیرے الضَّالِّينَ کی راہ۔انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے معنی خود قرآن شریف نے بتائے ہیں کہ وہ انبیاء اصدقاء شہداء اور صالحین کی جماعت ہے۔انبیاء وہ رفیع الدرجات انسان ہوتے ہیں جو خدا سے خبریں پاتے ہیں اور مخلوق کو پہنچاتے ہیں۔پھر وہ راستباز ہیں جو انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں۔اور پھر وہ لوگ ہیں جن کے لئے وہ باتیں گویا مشاہدہ میں آئی ہوئی ہیں اور پھر عام صالحین۔اس گروہ کی تفسیر خدا تعالیٰ نے آپ ہی سورۃ بقرہ کے شروع میں بیان کر دی ہے کہ ہدایت کی راہ کیا ہے؟ وہ یہ کہ اللہ پر ایمان لائے۔جزاء و سزا پر ایمان لاوے اور پھر اللہ ہی کی نیاز مندی کے لئے